گیس کیلئے کی گئی کھدائی کے دوران انسانی باقیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
جنوبی امریکی ملک پیرو کے دارالحکومت لِیما میں گیس کے لیے کی جانے والی کھدائی کے دوران دو قدیم مقبرے دریافت ہوئے ہیں جن میں 1000 برس پرانی انسانی باقیات ملی ہیں۔
کھدائی کے دوران دریافت ہونے والا ایک مقبرہ خالی پایا گیا جبکہ دوسرے میں انسانی باقیات کے ساتھ مٹی کے چار برتن اور کدو کے خول سے بنی تین اشیاء سامنے آئیں۔
قدرتی گیس کے ڈسٹریبیوٹر کیلیڈا کے لیے یہ دریافت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دو دہائیوں کے دوران کمپنی نے شہر میں کھدائی کے دوران 2200 سے زائد آثارِ قدیمہ کے مقامات کی نشان دہی کی ہے۔
ماہرِآثارِ قدیمہ جوز ایلیاگا نے اس بات کی تصدیق کی کہ برتنوں پر ہوئی نقش و نگاری اور مخصوص کالا، سفید اور سرخ رنگ ان کا تعلق پری -انکن چانکے ثقافت سے جوڑتا ہے۔ یہ برتن اندازاً 1000 سے 1470 برس پرانے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کھدائی کے دوران
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔