UrduPoint:
2026-07-24@13:26:25 GMT

سڈنی: فلسطین کے حق میں تاریخی مارچ، جولیان اسانج بھی شریک

اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT

سڈنی: فلسطین کے حق میں تاریخی مارچ، جولیان اسانج بھی شریک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اگست 2025ء) آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہزاروں افراد نے فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے آج بروز اتوار مشہور زمانہ سڈنی ہاربر برج کو بند کردیا۔ مظاہرین میں وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج بھی شامل تھے، جو گزشتہ برس برطانیہ کی ایک ہائی سکیورٹی جیل سے رہائی کے بعد واپس آسٹریلیا پہنچے تھے۔

اسانج اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سابق آسٹریلوی وزیر خارجہ اور نیو ساؤتھ ویلز کے سابق وزیر اعلیٰ باب کار کے ساتھ مارچ میں شریک ہوئے۔

مارچ میں شریک افراد نے شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باوجود ''فوری جنگ بندی‘‘ اور ''فلسطین کو آزادی دو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔

مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نیو ساؤتھ ویلز کی گرین پارٹی کی سینیٹر مہرین فاروقی نے سڈنی کے مرکزی لینگ پارک میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مارچ تاریخ رقم کرے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں ''قتل عام‘‘ کر رہی ہیں۔

فاروقی نے نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منز پر تنقید بھی کی، جنہوں نے اس مارچ کی اجازت نہ دینے کا موقف اختیار کر رکھا تھا۔

مظاہرے میں شریک افراد نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر ان ہزاروں فلسطینی بچوں کے نام درج تھے، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل میں دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد شروع ہونے والی غزہ کی جنگ میں اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

آسٹریلوی حکمران جماعت لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایڈ ہیوسک نے بھی مارچ میں شرکت کی اور وزیر اعظم انتھونی البانیز سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کریں۔

اس مارچ کے موقع پر سڈنی بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس نے سینکڑوں اضافی اہلکار تعینات کیے۔ تاہم جولیان اسانج نے مظاہرین سے خطاب نہ کیا اور نہ ہی میڈیا سے کوئی بات کی۔

واضح رہے کہ اسرائیل پر غزہ میں جاری خونریزی ختم کرنے کے لیے عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غزہ پٹی میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اس جنگ میں اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے حملے میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس حملے کے دوران 251 افراد کو یرغمال بھی بنایا گیا، جن میں سے 49 اب بھی غزہ میں موجود ہیں اور اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں سے 27 ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک، عدنان اسحاق

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرتے ہوئے ہلاک ہو

پڑھیں:

بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل