ملک گیر احتجاج کی کال، پی ٹی آئی کا ریحانہ ڈار سمیت کئی کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
ملک گیر احتجاج کی کال، پی ٹی آئی کا ریحانہ ڈار سمیت کئی کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کے باضابطہ آغاز کے بعد پارٹی کے ایک رہنما اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عمران خان توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق کیس میں5 اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، ان پر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت دیگر مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں۔
عمران خان نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی، جو ان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے کے موقع پر آج اپنے ’عروج‘ پر پہنچنا تھی, پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ 5 اگست احتجاج کا نقطۂ آغاز ہے، مگر اسے ’آخری کال‘ نہ سمجھا جائے۔
پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ریحانہ ڈار جیسی بزرگ خاتون کو پنجاب پولیس جس طرح گھسیٹ رہی ہے، وہ انتہائی شرمناک منظر ہے‘۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کردہ ایک ویڈیو میں ریحانہ ڈار کو دکھایا گیا، جو 2024 کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف امیدوار تھیں، اور پولیس اہلکار انہیں وین میں زبردستی بٹھا رہے ہیں۔
پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اخلاقیات اور شرافت کے تمام اصول روند چکے ہیں اور پستی کے نئے درجے تک گرگئے ہیں۔
پی ٹی آئی بہاولپور کے اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں احتجاج کرنے والے اس کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پارٹی کی طرف سے شیئر کی گئی تصاویر میں کارکنوں کو پولیس وین میں سوار ہوتے وقت فتح کا نشان بناتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ پولیس اہلکار لاٹھیوں سے لیس نظر آئے۔
پی ٹی آئی ملتان نے الزام لگایا کہ لاہور میں اس کے جلسے پر پولیس نے ’حملہ‘ کیا، جس میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، شیئر کی گئی تصاویر میں ایک گاڑی کی پچھلی کھڑکی کو ٹوٹا ہوا اور اس میں سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔
اسد قیصر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پنجاب اور کشمیر میں پولیس نے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ شیان بشیر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تقریباً 200 چھاپے مارے اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں مبینہ طور پر حلف نامے جمع کروانے کے بعد رہا کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپارلیمنٹ ہاؤس پر بھاری نفری تعینات، قیدی وینز اور اینٹی رائٹ دستے پہنچ گئے، اہم گرفتاریاں متوقع پارلیمنٹ ہاؤس پر بھاری نفری تعینات، قیدی وینز اور اینٹی رائٹ دستے پہنچ گئے، اہم گرفتاریاں متوقع پاک چین دوستی افلاک سے بھی وسیع اور بلند ہو چکی ہے ، وفاقی وزیر احسن اقبال وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو 26 ویں ترمیم پر مذاکرات کی دعوت دیدی عمران خان کی رہائی کو یقینی بناکر دم لیں گے: بیرسٹر گوہر عدالتیں کرپشن کا حصہ ہیں، کون سا جج کرپٹ ہے، اچھے طریقے سے جانتا ہوں، جسٹس محسن اختر کیانی بھارت کی کشمیر کو اپنی ریاست بنانے کی کوشش قبول نہیں کریں گے: اسحاق ڈارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ریحانہ ڈار پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔