پاکستانی طلبہ کے لیے مکمل فنڈڈ ماسٹرز ڈگری کے لیے برطانیہ کی باوقار شیوننگ اسکالرشپس کی درخواستیں منگل (5 اگست) سے کھل گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے سرکاری ملازمین کے لیے جاپانی جامعات میں اسکالرشپ حاصل کرنے کا نادر موقع، 26 لاکھ ڈالر مختص

شیوننگ برطانوی حکومت کا عالمی اسکالرشپ پروگرام ہے جو ان افراد کی معاونت کرتا ہے جن میں مضبوط قیادت کی صلاحیت ہو اور جو اپنی کمیونٹی اور ملک میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہوں۔

یہ اسکالرشپس ان پیشہ ور افراد کے لیے ہیں جنہیں گریجویشن کے بعد کم از کم 2 سال کا کام کا تجربہ حاصل ہو۔

اس اسکالرشپ میں ٹیوشن فیس، پروازوں کا خرچ، ویزا فیس اور رہائش و روزمرہ اخراجات کے لیے ماہانہ وظیفہ شامل ہے۔ امیدوار ایک سال تک برطانیہ میں رہائش کے دوران تعلیم حاصل کریں گے۔ اس دوران وہ پیشہ ورانہ اور علمی طور پر ترقی کریں گے، عالمی سطح پر نیٹ ورک بنائیں گے، برطانوی ثقافت کا تجربہ حاصل کریں گے اور برطانیہ کے ساتھ دیرپا مثبت تعلقات قائم کریں گے۔

برطانوی ہائی کمشنر کی پاکستانی طلبہ کو درخواست دینے کی دعوت

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے مستقبل کے رہنماؤں کو شیوننگ اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے کی دعوت دی ہے۔

مزید پڑھیے: امریکی و برطانوی سفیر پاکستانی سیاستدانوں سے ملاقاتیں کیوں کر رہے ہیں؟

جین میریٹ کا کہنا ہے کہ چیوننگ پروگرام صرف عالمی معیار کی تعلیم ہی نہیں فراہم کرتا بلکہ خود کو نکھارنے کا موقع، عالمی سطح پر تعلقات بنانے کے نیٹ ورک اور مقصد کے ساتھ قیادت کرنے کا اعتماد بھی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ میں قیادت کی صلاحیت اور تبدیلی لانے کی خواہش موجود ہے تو میں آپ کو بھرپور انداز میں درخواست دینے کی ترغیب دیتی ہوں۔

باصلاحیت پاکستانی طلبہ5  تا 7 اکتوبر 2025 برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں مکمل فنڈڈ ماسٹرز ڈگری کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ امیدواروں کو قیادت، اثر و رسوخ اور نیٹ ورکنگ کی صلاحیتوں کو حقیقی زندگی کی مثالوں کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: ایک اور پاکستانی ایئرلائن برطانیہ کے لیے اُڑان بھرنے کو تیار

شیوننگ پروگرام سنہ 1983 میں شروع ہوا اور آج اس کے 160 سے زائد ممالک سے 60 ہزار سے زیادہ سابق طلبہ ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے معتبر اسکالرشپ پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی 2 ہزار سے زائد شیوننگ کے سابق اسکالرز موجود ہیں جن میں سے کئی اپنے شعبے کے نمایاں رہنما ہیں۔

متوقع امیدوار chevening.

org/apply پر اپنی درخواستیں جمع کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

برطانیہ میں اسکالرشپ پاکستانی طلبہ کے لیے موقع شیوننگ اسکالرشپ مکمل فنڈڈ ماسٹرز ڈگری پروگرام

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برطانیہ میں اسکالرشپ پاکستانی طلبہ کے لیے موقع شیوننگ اسکالرشپ شیوننگ اسکالرشپ پاکستانی طلبہ کریں گے کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی