سوڈان خانہ جنگی میں ہلاکتوں اور انسانی بحران میں اضافہ، اوچا
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 اگست 2025ء) امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی بحران میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ملک کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کی حریف ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان اپریل 2023 سے جاری لڑائی کے باعث ملک کو بڑے پیمانے پر تشدد، بھوک اور نقل مکانی کا سامنا ہے جس نے دنیا میں سب سے بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔
Tweet URLحالیہ دنوں ریاست شمالی ڈارفر میں جاری شدید لڑائی میں بڑے پیمانے پر انسانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
(جاری ہے)
یکم اور 2 اگست کو ریاستی دارالحکومت الفاشر میں ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس علاقے میں واقع زمزم پناہ گزین کیمپ میں ایک سال قبل قحط کی تصدیق ہوئی تھی۔الفاشر 'آر ایس ایف' کے محاصرے میں ہے جہاں سڑک کے ذریعے خوراک یا دیگر مدد پہنچانا ممکن نہیں رہا۔ ان حالات میں شدید بھوک نے جنم لیا ہے اور بڑے پیمانے پر قحط پھیلنے کا خطرہ ہے۔
الفاشر اور گردونواح میں گندم اور جوار جیسی بنیادی خوراک کی قیمتیں چار گنا بڑھ گئی ہیں اور بہت سے خاندانوں کے لیے انہیں خریدنا ممکن نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا ہے کہ اگرچہ محدود پیمانے پر نقد امداد کی فراہمی جاری ہے لیکن ضروریات کا حجم اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ہیضے کی وباءڈارفر خطے میں ہیضہ پھیل رہا ہے جہاں اب تک 300 بچوں سمیت اس بیماری میں مبتلا 1,200 مریض سامنے آ چکے ہیں۔
طبی حکام نے بتایا ہے کہ جنوبی ڈارفر میں اواخر مئی کے بعد 1,100 افراد کے ہیضے میں مبتلا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 64 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ طبی سازوسامان، پینے کے صاف پانی اور صحت و صفائی کی سہولیات کا فقدان امدادی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں پانچ سال سے کم عمر کے 640,000 بچوں کو تشدد، بیماریوں اور بھوک سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔
پیچیدہ بحرانریاست نیل ابیض کے علاقے الدمازین میں سیلاب کے باعث 100 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں جہاں الکرمہ پناہ گزین کیمپ میں کم از کم 200 خیمے تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ اس آفت نے جنگ سے جان بچا کر گھر بار چھوڑنے والے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ریاست خرطوم میں بہت سے مقامات پر بچھی بارودی سرنگوں سے شہریوں کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
'اوچا' کی ڈائریکٹر برائے امدادی امور ایڈیم وسورنو نے رواں ہفتے سوڈان کا دورہ کر کے انسانی حالات کا جائزہ لیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ ملک میں جنگ سے تباہ حال لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر اور متواتر مدد فراہم کرنے اور اس معاملے میں عالمی برادری کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بڑے پیمانے پر
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔