نادرا نے جانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول مزید آسان بنادیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
کراچی:
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا)نےجانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول مزید آسان بنادیا اور ملک بھر میں قائم 186جانشینی سہولت مراکز میں درخواستیں جمع کرائی جاسکتی ہیں۔
ترجمان نادرا کے مطابق پاکستانی شہریوں کےلیےجانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول مزید آسان بنا دیا ہے، وراثتی جائیداد کہیں بھی ہو درخواست اب ملک بھر میں متعلقہ نادرا مراکز پر جمع کرائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نادرا کے 186 جانشینی سہولت مرکز اب ہرصوبے کی درخواستیں وصول کریں گے، یہ مراکز اسلام آباد، سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان میں قائم ہیں۔
ترجمان نادرا نے بتایا کہ قانونی ورثا اپنی بائیومیٹرک تصدیق نادرا کےکسی بھی مرکز پر کراسکتے ہیں، بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر پہلے سے موجود ہے۔
اس سے قبل جانشینی سرٹیفکیٹ کی درخواست اسی صوبےمیں جمع ہوتی تھی جہاں جائیداد واقع ہوا کرتی تھی، تاہم جانشینی سرٹیفکیٹ میں تبدیلی کے بعد نادرا ہیڈکوارٹرز نے تمام متعلقہ مراکز کو نئے طریقہ کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جانشینی سرٹیفکیٹ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔