پاکستان کو ایک اور بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہو گیا ہے۔ اب یہ بات ایک بار پھر واضح ہو چکی ہے کہ جموں و کشمیر کا معاملہ کسی ملک کی اندرونی سیاست نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا منصفانہ حل عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے ایک بار پھر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
او آئی سی کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 27 اکتوبر 2025 کو بھارت کے غیر قانونی قبضے کو 78 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ جنرل سیکرٹریٹ نے اس موقع پر جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جائز اور پرامن جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ او آئی سی اپنے سابقہ اسلامی سربراہی اجلاسوں اور وزرائے خارجہ کونسل کی قراردادوں پر قائم ہے، اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گی۔
تنظیم نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے انسانی حقوق کا احترام کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے پرامن اور حتمی حل کی راہ ہموار کرے۔
او آئی سی نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن ہو سکے۔
یہ اعلامیہ بھارت کے ان جھوٹے دعوؤں کے لیے ایک واضح جواب ہے جو وہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے دہراتا رہا ہے۔ او آئی سی کا دوٹوک مؤقف نہ صرف پاکستان کی سفارتی فتح ہے بلکہ کشمیری عوام کے حوصلے اور ان کی پرعزم جدوجہد کی بھی جیت ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا، اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر بھارتی غاصبانہ قبضے سے آزاد ہو کر انصاف اور آزادی کی نئی صبح دیکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: او ا ئی سی عوام کے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار