سٹی 42: چیئرمین پی ٹی آئی  بیر سٹر  گوہر علی خان  نے سواڑی چوک میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا   جس میں انہوں نے  بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے دہائیاں دیں ، مذاکرات کرنے کی رضامندی ظاہر کی اور  راستہ نکالنے کی درخواست کی ۔
 بیرسٹر گوہر علی خان  نے حکومت، اداروں اور عدلیہ کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا خان صاحب کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، عوام اب خاموش نہیں بیٹھے گی،خان کی رہائی کی آواز ہر گلی، ہر چوک سے اٹھ رہی ہے،جتنی مرضی گرفتاریاں کر لیں، تحریک انصاف کی آواز نہیں دبے گی،عوام اب صبح شام یہی پوچھتی ہے، خان کو رہا کیوں نہیں کیا جا رہا؟

الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں

 چیئر مین بیرسٹر گوہر نے کہا پی ٹی آئی سیاست میں تشدد اور سخت گیری کی قائل نہیں،27 سالہ جمہوری جدوجہد کی قربانیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے،راستے بند نہ کریں، جمہوریت کے لیے راستہ نکالیں ،خان صاحب بات چیت کے لیے تیار ہیں، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر اور پی ٹی آئی اداروں کی عزت کرتی ہے، لیکن پارلیمان سب سے بڑا ادارہ ہے،سنجیدہ آوازوں کو سزا دے کر پارلیمان کی حیثیت کمزور کی جا رہی ہے،عوام کی نظروں میں اداروں کا وقار متاثر ہو رہا ہے،بشرٰی بی بی 17 جنوری سے جیل میں، کیس کی سماعت تاحال نہ ہو سکی،اگر انصاف وقت پر ہو جاتا، تو احتجاج کی نوبت نہ آتی،نو مئی کی آڑ میں جمہوریت اور ملک کو نقصان نہ پہنچایا جائے

خاتون نے بوائے فرینڈ سے تحفے کے طور پر لیے آئی فونز فروخت کرکے اپنا گھر خرید لیا


چیئر مین پی ٹی آئی نےدہائیاں دیتے ہوئے  کہا خان صاحب کو رہا کریں، انصاف دیں، راستہ نکالیں،عدلیہ کی آزادی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، چیف جسٹس نوٹس لیں،انصاف میں تاخیر معاشرے کی تباہی ہے، انصاف نہ ہو تو انتشار ہوتا ہے،خان صاحب کا کیس سنا جائے، عوام کی ایک ہی آواز ہے: خان کو رہا کرو،ملک کو ترقی کے راستے پر لانے کے لیے سیاسی حل نکالنا ہوگا

4 روزہ تعطیلات، بڑی خوشخبری آگئی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار