ہیروز آف پاکستان: ڈاکٹر عبدالرؤف جنجوعہ کی روشن داستان
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
یومِ آزادی کے موقع پر جب ہم قومی ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، تو ڈاکٹر عبدالرؤف جنجوعہ جیسے عظیم سپوتوں کی کہانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ریسرچ آفس کے سربراہ ڈاکٹر جنجوعہ کی زندگی عزم، محنت اور قوم کی خدمت کی لازوال داستان ہے۔
اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں ’’میں نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول سے حاصل کی جہاں مجھے روزانہ 12 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ میرے والد نے مالی مشکلات کے باوجود تعلیم کو ترجیح دی اور کہا کہ رزق پتھر توڑ کر بھی کما لو گے، مگر علم کوئی نہیں چھین سکتا۔‘‘
تعلیمی سفر میں ڈاکٹر جنجوعہ نے سینٹر آف ایکسیلنس اِن مالیکیولر بائیولوجی، لاہور سے ایم فل اور پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کی پرکشش آفر ٹھکرا کر آزاد کشمیر یونیورسٹی جوائن کی تاکہ اپنے علاقے کے مسائل حل کرسکیں۔
ڈاکٹر جنجوعہ نے ہیپاٹائٹس بی کے حوالے سے ایک نئی ویکسین پر کام کرکے پاکستان کا نام روشن کیا۔ انہوں نے ہیپاٹائٹس بی اور سی کےلیے اے ایس ٹی پی آر کے نام سے ایک جامع ماڈل متعارف کرایا جس میں آگاہی، اسکریننگ، علاج، تحفظ اور تحقیق شامل ہیں۔ اب تک ان کی ٹیم 25 لاکھ لوگوں کو آگاہی دے چکی ہے اور دو لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کر چکی ہے۔
حال ہی میں ڈاکٹر صاحب کو پاکستان کے HCV ایلیمینیشن نیشنل پروگرام کی ایڈوائزری ٹیم کا حصہ بننے کا اعزاز ملا ہے۔ ان کا عزم ہے کہ 2030 تک ملک سے ہیپاٹائٹس کا خاتمہ کر دیا جائے۔
خدمت کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے انہوں نے آزاد کشمیر میں بایولوجیکل انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا ہے۔ ہنی بی، سلک ورم، ٹراؤٹ فش اور میڈیسنل پلانٹس فارمنگ پر متعدد منصوبے شروع کیے ہیں جو خطے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔
اپنی فلسفیانہ سوچ کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر جنجوعہ کہتے ہیں ’’ہم اس کے ذمے دار نہیں کہ باقی لوگ کیا کر رہے ہیں، ہم صرف اس کے ذمے دار ہیں کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں۔ قوموں کا مستقبل وہی لوگ بناتے ہیں جو اندھیروں میں امید بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر عبدالرؤف جنجوعہ جیسے ہیروز ہی دراصل پاکستان کی حقیقی طاقت ہیں، جو اپنی لگن اور محنت سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یومِ آزادی پر ایسے عظیم سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہوئے ہمیں ان سے حوصلہ اور تحریک لینے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر جنجوعہ کرتے ہوئے رہے ہیں
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔