شہری خرم شاہ کی بازیابی کا معاملہ لاپتہ افراد کمیشن میں بھیجنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
— فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ نے شہری خرم شاہ کی بازیابی کا معاملہ لاپتہ افراد کمیشن میں بھیجنے کا حکم دے دیا۔
عدالت میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاپتہ شہری ذوالفقار، مہران، شاہ جہاں اور سارنگ واپس آگئے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ذوالفقار میرانی پولیس اہلکار ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ دماغی مسائل کی وجہ سے گھر سے نکل گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس میں اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ، دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے رپورٹس طلب کر لی۔
لاپتہ شہری اسد اللّٰہ کی گرفتاری پولیس نے ظاہر کر دی، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسے پولیس نے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمہ ختم کیا جائے۔
اس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی درخواست پر آپ مقدمہ ختم کرنے کی استدعا کیسے کر رہے ہیں؟ آپ کی درخواست بازیابی سے متعلق تھی جو اب غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: درخواست گزار کے وکیل نے لاپتہ افراد کی
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت