بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع اُتّر کاشی کے دھَرالی علاقے میں منگل کے روز شدید بارش اور بادل پھٹنے کے باعث آنے والے اچانک طوفانی سیلاب گارے مٹی کے ساتھ ایک پورے قصبے پر چڑھ دوڑا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اب تک 5 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 100 سے زائد ہے جن میں بھارتی فوجی بھی شامل ہیں۔

 یہ طوفانی سیلاب گنگوتری یاترا کے راستے میں واقع قصبہ دھَرالی میں آیا، جس نے متعدد مکانات، ہوٹلز اور ہوم اسٹے بہا دیے۔ مقامی حکام کے مطابق، قصبے کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور 20 سے 25 ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک گارے مٹے کے ڈھیر سے ایک فرد اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔

ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے لیے پولیس، فوج، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) کی ٹیمیں علاقے میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ انڈو تبتن بارڈر پولیس (ITBP) کی ایک 16 رکنی ٹیم بھی روانہ کی گئی ہے، جبکہ مزید اہلکاروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں اور مزید اطلاعات آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اتراکھنڈ کلاؤڈ برسٹ بھارتی ریاست.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی ریاست

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار