عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دونوں رہنماؤں کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں سنے بغیر ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ جاری کیا، جو کہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، ہمیں صفائی کا موقع دیئے بغیر فیصلہ سنایا گیا جو غیر قانونی ہے۔
مودی سرکار کی’’ آپریشن سندور 2‘‘ کے نام پر ہرزہ سرائی ، ممکنہ جارحیت پر اب پاکستان بھارت میں کن مقامات کو نشانہ بنائے گا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نےاہم تفصیلات شیئر کر دیں
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم رہنماؤں سمیت 9 ارکانِ پارلیمنٹ کو نااہل قرار دے دیا تھا، اس فیصلے میں سینیٹر شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی عمر ایوب اور دیگر شامل ہیں جنہیں 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں سنائے جانے کے بعد ڈی نوٹیفائی کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ہے کہ الیکشن کمیشن
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔