اربعین حسینی مارچ کے راستے میں کسی حکومتی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرینگے، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
نیوز کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ حکومت ہمیں سیکورٹی فراہم کرے، اگر ریاست یا متعلقہ ادارے زائرین کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہیں تو ہم ہر تعمیری بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم ہر صورت ریمدان جائیں گے، حکومت ہمیں سیکورٹی فراہم کرے، اگر ریاست یا متعلقہ ادارے زائرین کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہیں تو ہم ہر تعمیری بات چیت کیلئے تیار ہیں، بلوچستان خرابی حالات کی اصل ذمہ دار حکومت ہے، عراق میں داعش کی موجودگی کے باوجود عراقی حکومت نے زائرین کو سہولیات و سکیورٹی فراہم کی، ہم حکومت گرانے نہیں بلکہ اپنے حق کیلئے آئے ہیں۔ امام بارگاہ شہدائے کربلا انچولی سوسائٹی کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ کافی عرصے سے زائرین اور زیارت کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے، کہا گیا کہ 40 ہزار افراد وہاں جا کر غائب ہوگئے، ایک منصوبے کے تحت اسے بدنام کیا جاتا رہا، انسانی اسمگلنگ میں حکومت ملوث ہے، وہ زائرین کو بدنام نہ کرے، عراق و ایران جانے والے زائرین کا مکمل ڈیٹا موجود ہے، زائرین کے پاسپورٹ وہاں بارڈر پر لے لئیے جاتے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ محرم کے ایام میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میں ایران، عراق اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کی میٹنگ ہوئی، ہم خوش ہوئے کہ ہمارے مسائل کم ہوں گے، زائرین نے تیاری شروع کر دی، ہوٹلوں کی بکنگ شروع ہوگئی، یہاں گاڑیوں کی بکنگ سمیت قافلوں کی تیاری شروع ہوگئی، پھر اچانک خبر آئی کہ زمینی راستے سے قافلے نہیں جائیں گے، زائرین پر پابندی سے اربوں روپوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر ہمارا عشق ہے ہماری عبادت ہے ہمارے ایمان کی نشانی ہے، غریب لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا اگر یہ سفر نہ ہو، ایک سال میں بلوچستان کی سرحد سے 10 لاکھ سے زیادہ زائرین زیارت پر جاتے ہیں، اس سے صوبوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے، حکومت نے اس فیصلے سے زائرین کو کاٹ کر رکھ دیا۔
چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ ہمیں متبادل دیا جاتا، سستی فلائٹ چلاتے، سستی فیری سروس شروع کی جا سکتی تھی، لیکن کوئی متبادل راستہ اور کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، آپ نے ہمارے لئیے کربلا جانے کا آسان راستہ بند کر دیا، جو طلبا ریمدان بارڈر پر موجود ہیں انہیں بھی روکا جا رہا ہے، یہ ہمیں عبادت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریمدان جائیں گے، آپ ہمیں سیکورٹی فراہم کریں، آپ افغانستان کا راستہ بھی کھول سکتے ہیں، وہاں سے بھی مشہد بہت قریب ہے، اہل تشیع اور اہل سنت کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی زیارتوں پر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج کسی سیاسی مفاد کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً مذہبی اور آئینی حق کے تحفظ کیلئے ہے، اگر ریاست یا متعلقہ ادارے زائرین کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں تو ہم ہر تعمیری بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان خرابی حالات کی اصل ذمہ دار حکومت ہے، عراق میں داعش کی موجودگی کے باوجود عراقی حکومت نے زائرین کو سہولیات و سکیورٹی فراہم کی، پاکستان حکومت کو کن سیکورٹی خدشات کے مسائل ہیں، بلوچستان میں بلوچ رہنماوں نے زائرین کے کاروان کو بلوچستان میں ویلکم کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں جانے دیا جائے، ماضی میں لوگ ہر طرح کی قربانیاں دے کر کربلا جاتے رہے ہیں، کراچی میں گورنر سندھ سے مذاکرات ہوئے ہیں، ہم نے اپنے مطالبات پیش کر دیئے ہیں، یہ کوئی سیاسی مسلہ نہیں ہے، ہمارا مسلہ حل کیا جائے، گورنر سندھ نے کہا ہے کہ تھوڑا وقت دیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ زائرین کو کربلا جانے دیا جائے، پابندی ہمارے بنیادی حقوق پر حملہ ہے، جن کے وزیرے لگے ہوئے ہیں انہیں زیارت کیلئے جانے دیا جائے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ہمارا سوال ہے کہ سیکورٹی دینا کس کی ذمہ داری ہے،بہت سے زائرین اپنے وسائل سے تفتان اور ریمدان تک پہنچ گئے ہیں، سندھ حکومت کیا عوام سے لڑ کر جیت سکتی ہے، یہ بظاہر بہت مولائی بنتے ہیں مگر کام دیکھیں کہ قافلوں کو کراچی آنے سے روکا جا رہا ہے، حکومت کو چاہئیے کہ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرے، ہم حکومت گرانے نہیں بلکہ اپنے حق کیلئے آئے ہیں۔ امام بارگاہ شہدائے کربلا انچولی میں نیوز کانفرنس میں علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ باقر عباس زیدی، علامہ صادق جعفری، علامہ مقصود ڈومکی، علامہ مختار امامی، علامہ نثار قلندری، علامہ صادق تقوی، علامہ اصغر شہیدی، علامہ نعیم الحسن سمیت بڑی تعداد میں قافلہ سالار موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس نے کہا کہ ہم زائرین کو زائرین کے دیا جائے کے مسائل رہا ہے
پڑھیں:
کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ملکی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری کی تجاویز اور آرا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی ٹبا، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی سمیت ملک کی نمایاں کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین، 2 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرلیے گئے
وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی عالمی سطح پر پہچان اور ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں اور حکومت و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت سے متعلق پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے معروف صنعتکاروں اورکاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات،مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں،بجٹ میں عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں،غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے… pic.twitter.com/7ST7m94Wc4
— Ali Tanoli (@alitanoli889) June 3, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور یہی ملکی معاشی پالیسی کا بنیادی محور ہے۔
وزیراعظم کے مطابق غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز شامل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جن سے ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے چینی وفد کی ملاقات، پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی سے معیشت مزید مضبوط ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے تکنیکی اور فنی تربیتی پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
ملاقات کے دوران وفد کو کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں اور ان میں شفاف طریقہ کار کے تحت تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں، اس کے علاوہ اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔
شرکا کو بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک تجارتی رسائی بہتر بنانے کے لیے موٹروے ایم 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے جبکہ کھاریاں اور کے درمیان راولپنڈی موٹروے ایم 13 کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفری فاصلے میں کمی آئے گی۔
بریفنگ کے مطابق پاکستان ریلوے کی ایم ایل 1 اور ایم ایل 2 اپ گریڈیشن سے ریلوے انفرا اسٹرکچر اور مال برداری کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، حکومت قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان بھی تشکیل دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: چین میں لیبر مہنگی ہوچکی، چینی کمپنیاں صنعتیں پاکستان منتقل کریں، وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شوگر اور سیمنٹ سیکٹر میں ویڈیو اینالیٹکس سسٹم کی تنصیب سے ریونیو وصولیوں میں بہتری آئی ہے۔
اس موقع پر کاروباری رہنماؤں نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی نظم و نسق پر اعتماد کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر امن، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کا عزم
وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ، ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات کو سراہا۔
کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔
شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے حکومتی اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے قومی معیشت کی مضبوطی، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ ٹیکس نیٹ شراکت دار شہباز شریف صنعتکار کاروباری برادری کاروباری شخصیات معاشی ترقی وزیراعظم شہباز شریف