UrduPoint:
2026-07-24@12:33:05 GMT

امریکا جانے کے خواہش مندوں کیلئے پالیسی سخت کر دی گئی

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

امریکا جانے کے خواہش مندوں کیلئے پالیسی سخت کر دی گئی

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 اگست2025ء) امریکا جانے کے خواہش مندوں کیلئے پالیسی سخت کر دی گئی، سیاحتی اور کاروباری ویزے پر امریکا کا سفر کرنے والوں کو بطور ضمانت 15 ہزار ڈالرز جمع کروانا ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت نے قلیل مدت کیلئے امریکا کا سفر کرنے والے غیر ملکیوں کیلئے پالیسی مزید سخت کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سیاحتی اور کاروباری ویزے پر امریکا کا سفر کرنے کے خواہش مند افراد کو اب بھاری رقم بطور زر ضمانت جمع کروانا ہو گی۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے ایک سال کا پائلٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سیاحتی اور کاروباری ویزا لینے والے درخواست گزاروں کیلئے امریکہ میں داخل ہونے سے پہلے 15 ہزار ڈالر تک زرضمانت ضمانت جمع کروانا لازمی قرار دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر انتظام امریکی حکومت ویزا درخواست دہندگان کیلئے قواعد و ضوابط سخت کررہی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ویزا درخواست دہندگان سے 15 ہزار ڈالر تک زرضمانت لینے کی تجویز ہے، یہ اقدام ویزا حاصل کرنے کے عمل کو بہت سے لوگوں کے مہنگا اور مشکل بناسکتا ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ نئی پالیسی کا نفاذ 20 اگست سے ہوگا اور اس کا اطلاق بی ون (کاروباری) اور بی ٹو (سیاحتی) ویزہ رکھنے والے افراد پر ہوگا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ پائلٹ پروگرام میں ایسے ممالک کے لوگوں سے جو زیادہ تر ویزا ختم ہونے کے بعد رہ جاتے ہیں یا جن کی دستاویزات کی سیکیورٹی میں کمزوری ہو، سے ویزا لیتے وقت پانچ ہزار، 10 ہزار یا 15 ہزار امریکی ڈالر کی ضمانت مانگی جاسکتی ہے۔

یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ویزا درخواست دہندگان کیلئے قواعد سخت کررہی ہے۔ گذشتہ ہفتے محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ ویزا کی تجدید کرنے والوں کو اضافی ذاتی انٹرویو سے گزرنا ہوگا جو پہلے ضروری نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ویزا ڈائیورسٹی لاٹری پروگرام کے درخواست دہندگان کے پاس اپنے ملک کا درست پاسپورٹ موجود ہو۔

فیڈرل رجسٹر کی ویب سائٹ پر پیر کو شائع ہونیوالے نوٹس کے ابتدائی خاکے میں کہا گیا ہے کہ یہ پائلٹ پروگرام اس کی باقاعدہ اشاعت کے 15 دن کے اندر نافذ ہوجائے گا، اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اگر کوئی غیرملکی وزیٹر ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرے تو امریکی حکومت کو مالی نقصان نہ ہو۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن ممالک پر یہ پروگرام لاگو ہوگا اس کی فہرست پروگرام کے نافذ ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔ درخواست گزار کی ذاتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ضمانت معاف بھی کی جاسکتی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی محکمہ خارجہ درخواست دہندگان کے مطابق

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری