اسلام آباد : ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے کی تجویز سامنے آگئی. جس سے کم آمدنی والے طبقے کو سہولت ملے گی۔

تفصیلات کے مطابق مہنگی بجلی اور بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان عوام کے لیے حکومت کی جانب سے ممکنہ ریلیف کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے پروٹیکٹڈ یونٹس کی 200 سے بڑھا کر 300 یونٹس کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے.

اس مجوزہ اقدام کا مقصد متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متعدد ارکانِ نے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا اور اس کو عوام پر "ناانصافی اور غیر متوازن مالی بوجھ” قرار دیا۔ذرائع کے مطابق اراکینِ اسمبلی نے خاص طور پر ان کیسز کی نشاندہی کی، جن میں گھریلو صارفین اگر 200 یونٹس سے صرف ایک یونٹ بھی تجاوز کر لیں (یعنی 201 یونٹس) تو انہیں سبسڈی سے محروم کر کے مکمل بل نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل کر دیا جاتا ہے. جس سے بل میں 5 ہزار روپے تک کا فرق پڑتا ہے۔فی الوقت 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو محفوظ (پروٹیکٹڈ) سلیب کے تحت رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جاتی ہے.لیکن اس حد سے تجاوز کرتے ہی مکمل بل مہنگے نرخوں پر چارج کیا جاتا ہے اور یہ یکدم اضافہ عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے کے تفصیلی جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے، جو اس حوالے سے باضابطہ سفارشات پیش کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار