Juraat:
2026-06-03@05:57:53 GMT

صدر میں خلاف ضابطہ خطرناک عمارت تعمیر

اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT

صدر میں خلاف ضابطہ خطرناک عمارت تعمیر

فائر سیفٹی اور پارکنگ قوانین نظر انداز،بغیر نقشہ منظوری امور جاری
ڈائریکٹرجنرل شاہ میر بھٹو اور ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف کی مجرمانہ غفلت

صدر کی فضا میں عمارتیں چڑھتی گئیں، اور ضمیر مٹی تلے دبتا گیانقشہ نہ منظوری فائر سیفٹی اور پارکنگ قوانین سب روند ڈالے گئے ،پلاٹ نمبر 7 میر کرم علی تالپور روڈ صدر میں خلاف ضابطہ تعمیرات سے خطیر رقوم کی بندر بانٹ ۔کراچی کا تاریخی علاقہ صدر آج ایک خطرناک تبدیلی کا شکار ہے ایک جانب بلند و بالا عمارتیں راتوں رات کھڑی ہو رہی ہیںتو دوسری جانب ان عمارتوں کی بنیادوں میں قانون ضمیر اور شہری تحفظ کی دیواریں منہدم ہوتی جا رہی ہیںجرآت سروے کے مطابق صدر میں متعدد عمارتیں ایسی تعمیر ہو رہی ہیں جو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں ان میں نہ تو فائر سیفٹی کے اصولوں کا خیال رکھا گیا ہے نہ ہی نقشے کی منظوری لی گئی ہے اور پارکنگ جیسی بنیادی سہولتوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتااہم بات یہ ہے کہ ان تمام سرگرمیوں کے باوجود ڈی جی شاہ میر خان بھٹو کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی کرپشن پر مکمل خاموشی اور چشم پوشی اختیار کی گئی ہے جسے شہری حلقے مجرمانہ غفلت قرار دے رہے ہیںمقامی افراد کا کہنا ہے کہ صدر میں تعمیرات کا یہ غیر قانونی سلسلہ نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ پانی سیوریج روشنی اور سیکیورٹی جیسے اہم شہری ڈھانچوں پر بھی دبا ڈال رہا ہے علاقہ مکینوں کے مطابق ہر نئی عمارت کے ساتھ علاقے کی سہولتیں کم ہوتی جا رہی ہیں جبکہ بلڈر مافیا منافع سمیٹ کر آگے نکل جاتی ہے اس وقت بھی پلاٹ نمبر 7 میر کرم علی تالپور روڈ صدر میں خلاف ضابطہ تعمیرات کی خطیر رقوم کی بندر بانٹ کے بعد چھوٹ دے دی گئی ہے شہریوںتاجر برادری اور سماجی تنظیموں نے سندھ حکومت اینٹی کرپشن اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ان غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائیاور ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس بگاڑ کے اصل ذمہ دار ہیںجرآت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے ڈی جی ہاس رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا