شاہ عبداللطیف بھٹائی کا عرس آج شروع، گورنر کے پی شرکت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
حضرت شاہ عبداللطیف بھٹاٸی کا 282 واں 3 روزہ عرس آج سے بھٹ شاہ میں شروع ہورہا ہے۔گورنر کےپی فیصل کریم کنڈی اورصوباٸی وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ عرس کی تقریبات کا آغاز کریں گے، ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔عرس کے آخری روز وزیر اعلی سندھ تقریبات میں شرکت کریں گے۔شاہ لطیف 1689 میں سندھ کے علاقے ہالا حویلی میں پیدا ہوئے تھے اور ضلع مٹیاری میں 1752 میں وفات پائی، ان کا شمار سندھی زبان کے ممتاز ترین شعرا میں ہوتا ہے، ان کی شاعری میں صوفیانہ فکر، عشق حقیقی، وحدت الوجود، اور انسان دوستی کے گہرے اثرات ملتے ہیں۔شاہ جو رسالو شاہ لطیف کی شاعری کا مجموعہ ہے، جو ان کی وفات کے بعد ان کے مریدین اور عقیدت مندوں نے مرتب کیا، اس کے ہر باب میں مخصوص لوک کہانیوں کے ذریعے روحانی پیغامات دیے گئے ہیں۔شاہ عبداللطیف بھٹائی سندھ کی روح سمجھے جاتے ہیں، ہر سال ان کے مزار پر عرس منایا جاتا ہے، جس میں دنیا بھر سے زائرین، شعرا، درویش اور سیاح آتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔