پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی‘مشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے: صدر
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے، نمائندہ خصوصی) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اورمشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے۔ اقلیتوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تمام حقوق حاصل ہیں۔ قائداعظم نے کہا تھا پاک سرزمین میں ہر شہری کے حقوق برابر ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مساوی مواقع کی فراہمی کیلئے پرعزم ہیں۔ آئین کے تحت ہر شہری کو اظہار رائے کی بھی مکمل آزادی ہے۔ پاکستان ہر قسم کی انتہاپسندی اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف پرعزم ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان دین اسلام کے سنہری اصولوں عدل، مساوات اور رواداری پر قائم ہوا اور انہی بنیادوں پر ہمیشہ قائم رہے گا۔ پاکستان اقلیتوں کے جان و مال، عقیدے اور عبادت کی آزادی کو آئینی ذمہ داری ہی نہیں، ریاستی پہچان سمجھتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اقلیتوں کے حقوق کے قومی دن پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان میں بسنے والا ہر شہری خواہ کسی بھی مذہب سے ہو، برابر کا پاکستانی ہے۔ دین اسلام جبر کی ممانعت، عقیدے کی آزادی اور انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے اور یہی تعلیمات اقلیتوں کے تحفظ کی بنیاد ہیں۔ قائداعظم نے 11 اگست 1947ء کے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کا ہر فرد مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ آئینِ پاکستان اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ پاکستان کی تمام اقلیتیں عزت، مساوات اور شراکت کے ساتھ قومی ترقی میں شریک اور قابل فخر ساتھی ہیں۔ اقلیتوں نے تعلیم، صحت، دفاع، سیاست سمیت ہر شعبے میں مثالی خدمات انجام دی ہیں جو قابل تحسین ہے۔ جنگی حالات میں بھی کرتارپور راہداری اور ننکانہ صاحب کو کھلا اور محفوظ رکھنا، پاکستان کے امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی ثبوت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہ پاکستان اقلیتوں کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔