مجمع المدارس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دینی نظامِ تعلیم میں علم و فکر کم اور مسلکی و فرقہ وارانہ جھکاؤ زیادہ ہو گیا ہے۔ نظامِ تعلیم کی اصل اصلاح معلم کی اصلاح سے جڑی ہے۔ ایک تربیت یافتہ اور باشعور معلم پوری قوم کو شعور اور تربیت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے بارے میں عالمی سطح پر دہشتگردی کا تاثر سب سے بڑا المیہ ہے، جسے مدارس اپنی مثبت کارکردگی، امن و محبت کے پیغام اور عملی نتائج سے ختم کر سکتے ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان ’’کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025‘‘ کا اختتامی اجلاس

اسلام ٹائمز۔ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن کے باہمی تعاون سے مجمع المدارس کے ملحقہ مدارس و مراکز کے مدیران اور معلمین کیلئے سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025 یکم اگست سے 13 اگست تک جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں منعقد ہوئی۔ اس کے اختتامی اجلاس کی صدارت صدرِ مجمع المدارس علامہ سید جواد نقوی نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے سربراہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر غلام قمر، کنزہ قمر، مفتی زبیر فہیم، ڈاکٹر میر محمد میر آصف اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر شریک اساتذہ کو اسنادِ شرکت سے نوازا گیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025 معلم کارگاہ بعنوان کا اختتامی اجلاس مجمع المدارس سالانہ تربیت

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت