بھارت کے یوم آزادی سے قبل مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرہ مزید سخت
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت نے 15 اگست کو اپنے یوم آزادی سے قبل سکیورٹی پابندیوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ہر سال کی طرح اس سال بھی کشمیری عوام بھارتی یوم آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کر چکے ہیں، اور اسی تناظر میں قابض انتظامیہ نے وادی کو ایک وسیع فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ پورے مقبوضہ خطے کے 20 اضلاع، بالخصوص لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں، اضافی فوجی چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں جہاں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کو روک کر سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: کشمیر کے یوم شہدا پر وزیر اعلیٰ بھی مقید
حساس مقامات پر ڈرونز، سی سی ٹی وی کیمرے، اور جدید سکیورٹی گرڈ سسٹم کے ذریعے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے تصدیق کی ہے کہ فل ڈریس ریہرسل مکمل ہو چکی ہے اور سڑکوں پر فورسز کا گشت مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
عوام اور انسانی حقوق گروپوں کا ردعمل
مقامی شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان سخت پابندیوں کو بنیادی انسانی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیری عوام کی آواز دبانے میں ناکام رہے گی۔ ان کے مطابق، 15 اگست کو یوم سیاہ منانا کشمیری عوام کا ایک پرامن مگر مضبوط پیغام ہے کہ وہ بھارتی جابرانہ قبضے کے خاتمے تک اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں 3 کشمیری نوجوان شہید کردیے
واضح رہے کہ بھارتی یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، کرفیو نما پابندیوں اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی معمول کی بات ہے۔ کشمیری عوام اس دن کو بھارت کے قبضے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر مناتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت کا یوم آزادی مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت کا یوم ا زادی کشمیری عوام یوم آزادی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔