وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سیاسی و سماجی کارکن سید عامر سہیل کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام ٹائمز کیساتھ خصوصی گفتگو میں وادی کشمیر کے معروف تجزیہ نگار و سیاسی و سماجی کارکن اور ڈسٹریکٹ ڈیویلپمنٹ کونسل کے سابق ممبر کا کہنا تھا کہ 25 کتابوں پر حکومتی پابندی غیر جمہوری عمل ہے جس سے بھارت کو کچھ ہاتھ نہیں آئیگا اور وہ اس عمل سے کوئی بھی چیز حاصل نہیں کرسکتا ہے، بی جے پی کے ذریعے انجام دی جانیوالی نفرت کی سیاست بھارتی سیکیولرازم اور جمہوریت کیلئے شدید خطرہ ہے۔ متعلقہ فائیلیںمودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370 کے خاتمے کو 6 سال گزر چکے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کے بعد وادی کشمیر کے سیاسی، دینی و سماجی رہنماؤں کو شدید ترین عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔ 6 برسوں میں وادی کشمیر میں نہ کوئی ترقی دیکھی گئی اور نہ بھارتی مظالم و بربریت میں کوئی کمی واقع ہوئی۔ جماعت اسلامی کشمیر، عوامی ایکشن کمیٹی اور اتحاد المسلمین جیسی دینی و سماجی تنظیموں پر پہلے سے ہی پابندی عائد کی جاچکی ہیں، اب حالیہ دنوں ملکی و غیر ملکی قلم کاروں کی 25 مختلف کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کو لیکر اسلام ٹائمز نے وادی کشمیر کے معروف تجزیہ نگار و سیاسی و سماجی کارکن اور ڈسٹریکٹ ڈیویلپمنٹ کونسل کے ممبر سید عامر سہیل سے خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران انہوں نے کہا کہ 25 کتابوں پر پابندی غیر جمہوری عمل ہے جس سے بھارت کو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور وہ اس عمل سے کوئی بھی چیز حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ذریعے انجام دی جانیوالی نفرت کی سیاست بھارتی سیکیولرازم اور جمہوریت کیلئے شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اور یہاں کی لیڈرشپ خوف و ہراس کے سایے میں زندگی گزار رہی ہے۔ سید عامر سہیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو راہل گاندھی کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دینا چاہیئے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وادی کشمیر نے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔