بھارت کا غرور 10 مئی کو غرق ہوگیا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چار دن کی جنگ میں ہمارے دلیر جوانوں نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو اسے رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔
نوجوانوں کے عالمی دن پر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو یوم آزادی کی مبارک باد پیش کرتا ہوں، آج کے دن ایک نیا پاکستان معرض وجود میں آیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 6 اور 10 مئی کو افواج پاکستان نے دشمن پر کاری ضرب لگائی، چار دن کی جنگ میں ہمارے دلیر جوانوں نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو اسے رہتی دنیا تک یاد رہے گا، پاک فضائیہ نے چار رافیل سمیت بھارت کے چھ طیارے گرائے، بھارت کا غرور دس مئی کو غرق ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان محنت کریں، ہم محنت سے پاکستان کو عظیم مملکت بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔