فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کو مسلسل جنگ کے دائرے سے نکالنے کے لیے وہاں ایک بین الاقوامی استحکامی مشن قائم کیا جائے۔
صدر میکرون نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول کے منصوبے کو “دائمی جنگ کی جانب خطرناک قدم” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی حکمت عملی سے سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں اور یرغمالیوں کو ہوگا۔
فرانسیسی صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر غزہ میں قیامِ امن کے لیے ایک مؤثر اور مضبوط بین الاقوامی مشن پر کام شروع کرے، جو وہاں شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، نظم و نسق بحال کرے اور حالات کو مستحکم بنائے۔

میکرون کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی ٹیموں کو ہدایت دی ہے کہ شراکت داروں کے ساتھ فوری طور پر اس مشن کی تیاری شروع کریں۔ دنیا کو اب غزہ میں ایک مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ جنگ کو ختم ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ فرانسیسی صدر کا یہ بیان اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ سٹی پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ صدر میکرون نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک نے بھی اسی موقف کی حمایت کی، جس سے دنیا بھر میں فلسطینی ریاست کے حق میں آوازیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔

 

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی