حملہ بروقت ناکام نہ بناتے تو مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں بڑی تباہی ہوتی، آئی جی کے پی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
آئی جی کے پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کسی جگہ موٹروے اور ہائی ویز پر دہشت گرد ناکہ موجود نہیں، ڈی آئی خان سے کوئٹہ سفر کیا جا سکتا ہے کیونکہ سیکیورٹی حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ 11 مئی کو پشاور میں دہشتگردی کا حملہ بروقت ناکام نہ بناتے تو مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں بڑی تباہی ہوتی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی کے پی نے کہا کہ دہشتگردوں کا ہدف جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا جلسہ تھا جنہیں ہدف پر پہنچنے نہیں دیا گیا، یہ رواں سال دہشت گردی کی بڑی کارروائی تھی جو ناکام بنائی گئی۔ یاد رہے کہ 11 مئی کو پشاور میں جے یو آئی کا جلسہ تھا جس کے لیے 4 خودکش بمبار آئے تھے جن میں سے تین کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ ایک کو پولیس نے روکا تو اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ دھماکے میں چمکنی پولیس کے دو اہلکار شہید ہوئے تھے۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ محرم میں کوہاٹ میں بھی قبل ازوقت حملے کو ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلی بار پولیس نے دہشتگردوں کا ڈرون گرایا، اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سے بنوں میں دو ڈرون گرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ آپریشن سے جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، ملاکنڈ میں دہشت گردوں کی تشکیل آئی تھی اور پولیس آپریشن سے دہشت گرد بھاگ گئے۔ آئی جی کے پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کسی جگہ موٹروے اور ہائی ویز پر دہشت گرد ناکہ موجود نہیں، ڈی آئی خان سے کوئٹہ سفر کیا جا سکتا ہے کیونکہ سیکیورٹی حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا نے کہا کہ جی کے پی
پڑھیں:
پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں 132ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا آج 300 سے زائد خواتین اپنی ٹریننگ مکمل کررہی ہیں، مجھے خواتین کی کامیابی پر بہت خوشی ہوئی کہ ایک تازہ دم دستہ عوام کی خدمت کےلیے تیار ہے، شہریوں کو پر امن زندگی دینے کی ذمے داری اب آپ پر عائد ہوتی ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ پولیس کی فلاح و بہبود ہمیشہ سے میری اولین ترجیح رہی ہے، مستقبل میں بھی پولیس کے تمام مسائل کو بہتر اور ترجیحی انداز میں حل کیا جائے گا، پاس آؤٹ ہونے والے جوان فیلڈ میں جا کر سندھ پولیس کا نام مزید روشن کریں گے۔ مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ پولیس اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی اپنے امیج (تاثر) کو بہتر بنا سکتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔