ایئرپورٹس اور امیگریشن چیک پوسٹس پر تعیناتی کیلئے سیکیورٹی کلیئرنس لازمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: ایف آئی اے میں اندرونی احتسابی نظام پر عملدرآمد کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایئر پورٹس سمیت ملک بھر کی تمام امیگریشن چیک پوسٹس پر تعیناتی کیلئے سیکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دے دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق آئی بی سے کلیئرنس کے حامل اہلکار ہی امیگریشن میں تعینات ہوسکیں گے، ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز سے زونل اے ڈی جیز اور زونل ڈائریکٹرز کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔
فیصلےکے مطابق تعیناتی کے خواہش مند افسران اور اہلکاروں کی سیکیورٹی کلیئرنس آئی بی سے کرائی جائے گی، درخواست گزاروں کی سیکیورٹی کلیئرنس کیلئے کوائف ایس 190 فارم پر بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جشن آزادی کی خوشیاں، برائلر گوسشت کی نئی قیمت کیا؟
مزید کہا گیا ہے کہ پُرشدہ فارم مزید کارروائی کیلئے ڈپٹی ڈائریکٹر پرسنل انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کو روانہ کئے جائیں،ان احکامات کا مقصد ادارے میں بدعنوانی کیخلاف زیروٹالرنس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیکیورٹی کلیئرنس
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔