کرک کے دورافتادہ سرحدی علاقہ درشہ خیل میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں18 عسکریت پسند ہلاک اور7 دیگر زخمی کرنے کا بڑا دعویٰ کیا گیاہے ،جبکہ سیکیورٹی فورسز کے3 اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کرک نے علاقہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے پیش نظر عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرتے ہوئے کرفیو نافذ کردی ہے۔ کرک پولیس کے ترجمان کے مطابق گزشتہ شام کرک کی تحصیل تخت نصرتی کی حدودمیں پولیس تھانہ شاہ سلیم کے سرحدی علاقہ درشہ خیل میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ملانذیرگروپ کے مسلح ارکان کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ آپریشن کیا جس کے دوران دو طرفہ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اوربھاری ہتھیاروں کا ستعمال کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) شہباز الٰہی کے مطابق کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں 17 دہشت گرد ہلاک اور 7 دیگر زخمی ہوگئے جو بھاگ کرگاؤںمیں کہیںچھپ گئے ہیں  جن کی گرفتاری کے لئے آپریشن جاری ہے ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں ۔حکام کے مطابق ہلاک عسکریت پسندوں کی صحیح تعداد اور شناخت کے لئے سیکیورٹی فورسز نے علاقہ کا گھیراؤکرلیا ہے۔ ادھرڈ پٹی کمشنر کرک نے تھانہ شاہ سلیم کی حدود میں واقع گاؤں درشہ خیل (شنوہ گڈی خیل) میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے پیش نظر شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ہفتہ کے روز دوپہر 2 بجے تک کرفیو کا نفاذ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز درشہ خیل کے مطابق پولیس ا

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار