نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں گرینڈ میوزیکل شو کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
فوٹو: اسکرین گریب
نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے جشن آزادی اور معرکہ حق تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں گرینڈ میوزیکل شو کا بھی اہتمام کیا گیا، بڑی تعداد میں شہریوں نے تقریب میں شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بطورِ مہمان خصوصی شریک ہوئے، صوبائی وزراء بھی تقریب میں موجود تھے، جبکہ مختلف ممالک کے قونصل جنرل بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
گورنر ہاؤس کراچی میں جشن آزادی معرکہ حق کے سلسلے میں اونٹوں کی ریلی کا انعقاد کیا گیا اونٹوں پر پاکستانی پرچم لگایا ہوا تھا۔
سندھ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اس میوزیکل ایونٹ کے لیے سیکیورٹی اور ٹریفک پلان بھی ترتیب دیا گیا، مرد اور خواتین کیلئے الگ الگ انکلوژر مختص کیے گئے۔
ایونٹ میں معروف گلوکار راحت فتح علی خان سمیت دیگر فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ جشن آزادی کی تقریبات میں بھی آگے ہے۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسا جواب دیا کہ بھارت دنیا کے سامنے گڑ گڑانے پر مجبور ہوا۔
سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ہم چاہتے تو جنگ جاری رکھ کر بھارت کو مزید مزا چکھا سکتے تھے، امن پسند ہیں اس لیے دنیا کی بات مان لی اور جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے والا سندھ صوبہ ہے،سندھ صوبہ جشن آزادی کی تقریبات میں بھی آگے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔