1100 ارب کا وعدہ کیا، 11 روپے بھی نہ ملے، — وزیراعلیٰ سندھ وفاق پر برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر عدم تعاون اور وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے لیے اربوں روپے کے وعدے کیے گئے، مگر حقیقت میں ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک وزیراعظم آیا، اس نے کراچی کے لیے 1100 ارب روپے کا اعلان کیا، لیکن ہمیں 11 روپے بھی نہیں ملے۔ پھر دوسرا آیا، اس نے 162 ارب روپے کا وعدہ کیا، مگر وہ بھی صرف زبانی کلامی نکلا۔
وفاق کی ’سست روی‘ پر عدم اطمینان
وزیراعلیٰ نے کے فور منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق جس انداز سے کے فور جیسے اہم پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے، ہم اس سے بالکل خوش نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے سرگرم ہے، مگر وفاقی حکومت کی سست روی اور غیر سنجیدگی نے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
انتخابی عمل سے راہِ فرار پر تنقید
مراد علی شاہ نے ایک سیاسی جماعت پر بھی تنقید کی، جو الیکشن سے بھاگ گئی۔ انہوں نے خود کہا کہ ہم انتخابات نہیں لڑیں گے کیونکہ ہمیں شکست نظر آ رہی ہے۔
کراچی کے مسائل پر فعال اقدامات
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کچھ ماہ قبل کراچی کے شہری مسائل کے حل کے لئے خصوصی پورٹل متعارف کروایا تھا جس کا مقصد گلی محلوں کی سطح پر صفائی، نکاسی آب اور تجاوزات جیسے مسائل کی نگرانی تھا۔
مراد علی شاہ نے ہدایت دی تھی کہ اسسٹنٹ کمشنرز خود شہر کا دورہ کریں، گٹر ابلنے، صفائی کی خرابی، غیرقانونی پارکنگ جیسے مسائل کی نگرانی کریں، تمام صورتحال ڈیجیٹل پورٹل پر اپ لوڈ کی جائے تاکہ فوری کارروائی ممکن ہو
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے کراچی کے کہا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔