Juraat:
2026-06-03@02:20:03 GMT

سرکاری اداروں کو 6 کھرب کا خسارہ، حکومت کے ہوش اڑ گئے

اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT

سرکاری اداروں کو 6 کھرب کا خسارہ، حکومت کے ہوش اڑ گئے

تقریباً چھ کھرب روپے کے نقصان نے حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیاہے،وفاقی وزیر خزانہ کا انکشاف
سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی مؤثر قرار ،سینیٹ میں محمد اورنگزیب کی توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو ہونے والے تقریباً چھ کھرب روپے کے نقصان نے حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال 25-2024 کی پہلی ششماہی میں سرکاری اداروں کو 5۔89 کھرب روپے کا نقصان ہوا ہے، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال آٹھ سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔یہ توجہ دلاؤ نوٹس بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پیش کیا تھا، تاہم ان کی غیر حاضری میں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا۔وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ سال سرکاری اداروں کی آمدن 12 کھرب روپے ریکارڈ کی گئی تھی، لیکن اس کا تقریباً نصف حصہ نقصانات کی نذر ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اخراجات کم کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے جن میں پنشن اصلاحات بھی شامل ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ 24 سرکاری اداروں کو نجکاری کے لیے حتمی شکل دی جا چکی ہے، یہ ادارے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری سے منظور ہو کر نجکاری کمیشن کو بھیجے گئے ہیں۔وزیر خزانہ کے مطابق ان اداروں میں سے آٹھ کی نجکاری اس سال مکمل ہوگی جبکہ باقی کی بعد میں جائے گی۔انہوں نے سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس او ایز کے بورڈز میں نجی شعبے کے چیٔرمین تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ تین ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں) کی نجکاری کا عمل جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔محمد اورنگزیب کے مطابق کابینہ کمیٹیاں، جن میں ایس او ایز اور رائٹ سائزنگ شامل ہیں، 43 وزارتوں اور 400 سرکاری محکموں میں نجکاری کے عمل پر کام کر رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب سرکاری اداروں کھرب روپے کہا کہ

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد