واشنگٹن:

امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکا سمیت دنیا بھر میں پاکستانی اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ   14 اگست 2025ء  کے جشن آزادی کے موقع پر میں پاکستان ، امریکا اور دنیا کے طول و عرض میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو خلوص دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ جشن آزادی تجدید عہد اور آزادی کا دن ہ، لیکن اس مرتبہ 14 اگست اس معرکہ حق کے 3  ماہ بعد آیا ہے جس میں ہم نے نہ صرف اپنی آزادی کی تجدید کی بلکہ پوری دنیا نے اس کی تائید بھی کی۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ ہم نے ثابت کردیا کہ پاکستان اور دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والے پاکستانی اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔  ہماری بری،  بحری اور فضائی افواج نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور جو فتح حاصل کی اس میں پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے اور اپنے کسی بھی اختلاف سے بالاتر ہو کر اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت آج بھی اور آنے والے کل میں بھی تیار ہے اور تیار رہے گی۔ 

پاکستان میں اور دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے جشن آزادی ایک انتہائی خوشی کا موقع ہے اور آج جب ہم 79 واں یوم آزادی منا رہے ہیں ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ معرکہ حق میں جو فتح ہم نے حاصل کی ہے،  بنیان المرصوص آپریشن کے نتیجے میں،  وہ ایک ابتدا تھی جو فلسفہ اور جو تصور بنیان المرصوص سے وابستہ ہے،  اس کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوگی جب ہم اپنے قائد کے اس فرمان کی تکمیل نہ کر سکیں اور اس مقام پر پاکستان کو نہ پہنچا دیں جس کی پیش بندی کے طور پر انہوں نے کہا تھا کہ  There is no power on earth that can undo Pakistan ۔ اور یہ صرف تبھی ممکن ہوگا جب ہم اپنی یکجہتی کو قائم رکھیں،  اپنے اتحاد کو برقرار رکھیں،  ایک نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اس بات پر ایمان رکھیں کہ واقعی جب ہم معاشی طور پر ناقابل تسخیر ہو جائیں گے تو بنیان ا المرصوص کا اصل مقصد پورا ہو جائے گا اور ہمارا دفاع اور پاکستان کی سالمیت اور پاکستان کا وقار ناقابل تسخیر ہو جائے گا ۔

سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں سے جو امریکا کے طول و عرض میں آباد ہیں،  میری گزارش ہے کہ آپ امریکا اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کیجیے۔  بنیان المرصوس کی فتح کے بعد ہم نے دیکھا ہے کہ جس طرح باقی دنیا میں ہمارے وقار میں اضافہ ہوا ہے ، ہماری پوزیشن بہتر ہوئی ہے اسی طرح پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بھی ایک نیا اور خوشگوار ترین موڑ لیا ہے اور لگتا ہے کہ ہمارا مستقبل خوش آئند ہے لیکن ہمیں دونوں ملکوں کے تعلقات کی بقا اور بہتری کے لیے مل کر کام کرنا  ہوگا۔ اس سلسلے میں میں آپ سب کے تعاون کے لیے استدعابھی کرتا ہوں اور مشکور بھی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ  پاک امریکا دو طرفہ تعلقات اور خاص کر معاشی تعلقات علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت ہوں گے۔ آئیے ہم سب مل کر اس کے لیے کام کریں۔  lets team up for Pakistan ۔ پاکستان زندہ باد ۔ پاک امریکا دوستی پائندہ باد۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اپنی آزادی کی حفاظت میں پاکستان لیے ہمہ وقت نے کہا کے لیے ہے اور

پڑھیں:

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔

اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔

پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویز

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گی

مجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار