2024 میں 80 لاکھ خواتین نے پہلی بار موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا،ڈیجی سکلز 3.0 کے تحت تین سال میں 33 لاکھ آئی ٹی پروفیشنلز کو تربیت دیں گے،وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اگست2025ء) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں 80 لاکھ خواتین نے پہلی بار موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا،ڈیجی سکلز 3.0‘‘ کے تحت وزارت آئندہ تین سال میں 33 لاکھ سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کو تربیت دے گی۔جمعرات کو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور اس کے ذیلی ادارے قوم کے ساتھ مل کر یومِ آزادی بھرپور طریقے سے مناتے ہیں۔
یہ خصوصی تقریب حکومت، صنعت، سٹارٹ اپس اور اکیڈمیا کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہے تاکہ ملک کے شاندار ترقیاتی سفر کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔(جاری ہے)
اس سال کا دن “معرکۂ حق” کی یاد بھی تازہ کرتا ہے جب مئی میں پاکستان نے بھارت پر شاندار کامیابی حاصل کی، یہ فتح جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی صلاحیت کا عملی مظاہرہ تھی جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ہر میدان میں کامیابی کے لیے ایک عملی خاکہ فراہم کرتی ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ایک مضبوط، ترقی پسند اور خود کفیل پاکستان کے خواب کو یاد کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وژن ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ کو اجاگر کیا جو تین بنیادی ستونوں ’’ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹل سوسائٹی اور ڈیجیٹل گورننس‘پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک قوم کی طرح آگے بڑھیں گے اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں دہائیوں کا فاصلہ ایک جست میں طے کریں گے۔”وزیرِ نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان کو اقتصادی اور تکنیکی طور پر خود کفیل بنایا جائے گا۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان، وفاقی کابینہ، سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC)، پاک فوج اور بالخصوص فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کو ملک کی معاشی اور تکنیکی ترقی میں قائدانہ کردار اور معرکۂ حق میں کامیابی کے لیے قیادت، عزم اور قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ 2024 کے گلوبل سائبر سکیورٹی انڈیکس میں پاکستان نے ٹئیر-ون “رول ماڈلنگ” کا درجہ حاصل کیا جبکہ اقوام متحدہ کے ای-گورنمنٹ ڈیولپمنٹ انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی 14 درجے بہتر ہوئی اور پہلی مرتبہ ہائی ای جی ڈی آئی کیٹیگری میں آیا۔شزہ فاطمہ خواجہ نے خاص طور پر اس کامیابی پر فخر کا اظہار کیا کہ 2025 کے جی ایس ایم اے جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق موبائل انٹرنیٹ جینڈر گیپ 38 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا ہے اور مالی سال 2024-25 میں 80 لاکھ خواتین نے پہلی بار موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا۔ خواتین کی موبائل انٹرنیٹ استعمال کی شرح 10 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد تک پہنچ گئی جو ان کا ذاتی ہدف تھا جب انہوں نے وزارت سنبھالی۔وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے مستقبل کے روڈمیپ کا خاکہ بھی پیش کیا جس میں نوجوانوں کا بااختیار بنانا، بہتر طرز حکمرانی، صنعت کے فروغ اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 منظور ہو چکی ہے جو مصنوعی ذہانت میں، اخلاقی ترقی اور معیشت کو فروغ دے گی۔نیشنل فائبرائزیشن انیشی ایٹو ملک بھر میں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ تک رسائی بڑھائے گا جبکہ آئی ایم ٹی سپیکٹرم آکشن 5G کی تیاری، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور ٹیلی کام کی ترقی کو یقینی بنائے گا۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز سے ہر علاقے میں کنیکٹیویٹی ممکن ہو گی جبکہ ’’آئی ٹی کمپنیز کے لیے بلا تعطل انٹرنیٹ پالیسی‘‘ آئی ٹی برآمدات اور سروس ڈیلیوری کے لیے معیاری اور مستقل کنیکٹیویٹی فراہم کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ ’’ڈیجی سکلز 3.0‘‘ کے تحت وزارت اگلے تین سال میں 33 لاکھ سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کو تربیت دے گی جن میں ہواوے کی 3 لاکھ اور گوگل کی 2 لاکھ ٹریننگز شامل ہیں۔اپنے پیغام کے اختتام پر شزہ فاطمہ خواجہ نے قائداعظم کے اس یقین کو دہرایا کہ پاکستان کا مستقبل محنت، نظم و ضبط اور اتحاد پر منحصر ہے۔ انہوں نے آزادی کی روح کو ڈیجیٹل خود مختاری سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی، جدت اور گورننس میں خود کفیل بنانا ہی اصل آزادی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں، خواتین، کاروباری طبقے اور آئی ٹی پروفیشنلز کو خوشحال اور منصفانہ پاکستان کے معمار قرار دیا۔انہوں نے کہا: “معرکۂ حق میں پاکستان نے عالمی سطح پر ایک ایسا مقام حاصل کیا کہ اب اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس 14 اگست پر ہم یہ عزم دہراتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم ایک ایسا خوشحال اور منصفانہ پاکستان تعمیر کریں گے جو ہماری زندگی ہی میں حقیقت بنے گا۔\932
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے موبائل انٹرنیٹ استعمال آئی ٹی پروفیشنلز کو شزہ فاطمہ خواجہ نے میں پاکستان کہ پاکستان انہوں نے سال میں کے لیے نے کہا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔