مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یومِ آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یومِ آزادی (15 اگست) کو غلامی کی یاد قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کُل جماعتی حریت کانفرنس نے غیور اور بہادر کشمیریوں سے 15 اگست کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جس دن بھارت اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے، وہ دن کشمیریوں کے لیے غلامی، جبری تسلط اور مظالم کی سیاہ یاد ہے۔
حریت کانفرنس نے اعلان کیا کہ ہم اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ کشمیری قوم بھارتی تسلط کی قیدی نہیں بلکہ آزادی کی متلاشی ہے۔
حریت رہنماؤں کی اپیل کے فوری بعد بھارتی فورسز نے روایتی جبر کا استعمال کرتے ہوئے چھاپے مارے، درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کیا، اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی۔
اس کے باوجود وادی میں کشمیری نوجوانوں نے جگہ جگہ یومِ سیاہ کے بینرز، سیاہ جھنڈے اور پاکستانی پرچم آویزاں کرنا شروع کردیئے۔
مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں بھارت مخالف نعرے اور آزادی کے حق میں وال چاکنگ بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
دوسری جانب حریت رہنماؤں نے 14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی یومِ تشکر کے طور پر منایا اور پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔