واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اگست2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دیئے جانے کی حمایت کی ہے۔ ٹی آر ٹی اردو کی رپورٹ کے مطابق اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےامریکی صدر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کی صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ حالات کا مشاہدہ کر سکیں اور علاقے سے خبریں فراہم کر سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ میں صحافیوں کے غزہ میں داخلے کے حق میں ہوں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں صحافت ایک بہت خطرناک ذمہ داری ہے لیکن میں چاہوں گا کہ ایسا ہو ۔امریکی صدر کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب دنیا بھر سے 100 سے زیادہ صحافیوں، فوٹوگرافروں اور جنگی نامہ نگاروں نے غزہ میں جاری قتل و غارت گری کی آزادانہ کوریج کے لیے غیر ملکی صحافیوں کو علاقے میں’’ فوری اور بلا رکاوٹ داخلے‘‘ کی اجازت دیئے جانے کے مطالبے پر مبنی ایک درخواست پر دستخط کیے ہیں ۔

(جاری ہے)

مذکورہ درخواست "رائٹ ٹُو رپورٹ" نامی مہم کا حصہ ہے، جسے ایوارڈ یافتہ جنگی فوٹوگرافر آندرے لیون نے شروع کیا تھا۔ اس پر دنیا کے مشہور صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات جیسے الیکس کرافورڈ (اسکائی نیوز)، مہدی حسن، کرسٹیان امان پور (سی این این)، کلاریسا وارڈ اور معروف جنگی فوٹوگرافر ڈان مککلن نے دستخط کیے ہیں۔درخواست گزاروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ اور شفاف رپورٹنگ کی اجازت دے اور کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے بین الاقوامی میڈیا پر عائد کی گئی پابندی عوام کے جاننے کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آزادی صحافت کے لئے کام کرنے والے گروپوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا اسرائیل سے پابندیاں ہٹانے کی اپیل کی اور خبردار کیا ہے کہ غزہ سے آزادانہ رپورٹنگ کی غیر موجودگی نے عالمی عوام کو محدود اور فوجی ذرائع کے منظور شدہ بیانیوں اور مقامی صحافیوں کے کام پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان مقامی صحافیوں کی اکثریت بھی جنگ میں قتل کی جا چُکی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے جاری قتل عام اور نسل کُشی کے بعد سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صحافیوں کو غزہ میں غزہ میں داخلے کی صحافیوں کو کی اجازت

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل