خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹرامدادی سرگرمیوں کے دوران لاپتہ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
باجوڑ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اگست2025ء)خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر ضلع باجوڑ میں امدادی سرگرمیوں کے لیے روانگی کے دوران لاپتا ہوگیا۔ ترجمان کے مطابق ہیلی کاپٹر مختلف متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر آخری بار ضلع مہمند کے قریب ریڈار پر دیکھا گیا تھا، جس کے بعد اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور سیکیورٹی اداروں نے ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ فضائی اور زمینی ٹیمیں علاقے میں سرچ آپریشن میں مصروف ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ کو بھی مدد کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔(جاری ہے)
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا ہیلی کاپٹر میں موجود عملے اور مسافروں کی تلاش اولین ترجیح ہے، اور اس حوالے سے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
واقعے کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ بونیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ، مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 79 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی اور سینکڑوں لاپتہ ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ خیبرپختونخوا کے اضلاع بٹگرام، باجوڑ اور مانسہرہ میں بادل پھٹنے، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 60 افراد جاں بحق، 16 زخمی اور متعدد لاپتہ ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 40 مرد، 12 بچے اور 8 خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے، بارشوں اور فلش فلڈ سے 35 گھروں کو نقصان پہنچا،7 گھر مکمل جبکہ 28 گھر جزوی تباہ ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات باجوڑ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ، سوات، بونیر اور شانگلہ کے اضلاع میں پیش آئے، سب سے زیادہ نقصان ضلع باجوڑ اور بٹگرام میں ہوا جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہیلی کاپٹر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔