باجوڑ اور بونیر میں سیلابی صورتحال، ریسکیو کیلیے کے پی حکومت کے 2ہیلی کاپٹر روانہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پشاور:
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر مکانات کی چھتوں پر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے صوبائی حکومت کا چھوٹا ہیلی کاپٹر فوری طور پر بونیر روانہ کر دیا گیا۔
ترجمان وزیراعلیٰ کے پی کے مطابق صوبائی حکومت کے بڑے ہیلی کاپٹر ایم آی 17 کو باجوڑ میں ریسکیو کے لیے بھیجا گیا ہے، صوبائی حکومت کے پاس صرف یہ دو ہی ہیلی کاپٹر ہیں جو ریسکیو سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
وزیر اعلی نے موجودہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ موجودہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ تمام متعلقہ حکام، ڈویژنل انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور صوبہ بھر کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں، وزیر اعلیٰ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ سے صورتحال سے متعلق رپورٹ لے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بونیر میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے کمشنر ملاکنڈ اور ڈی سی بونیر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔