فوٹو: اے ایف پی 

پاک فوج نے خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کیلئے ایک دن کی تنخواہ اور راشن وقف کردیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے وقف کردی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے اپنا ایک دن کا راشن خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لیے مختص کردیا، پاک فوج کا ایک دن کا راشن تقریباً 600 ٹن سے زیادہ بنتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث تباہی کے مناظر

صوبہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر.

..

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کردیں۔

آرمی چیف نے پلوں کی مرمت کا کام جلد مکمل کرنے کی کور آف انجنیئرز کو خصوصی ہدایات جاری کردیں،  آرمی چیف نے ہدایت کی کہ جہاں ضروری ہے عارضی پل قائم کیے جائیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے اضافی فوجی دستے بھی بھیجے جا رہے ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعینات فوج سیلاب سے متاثر عوام کی بحالی میں بھرپور مدد کرے گی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی کی خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی تعینات کر دی گئی، پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور آرمی ایوی ایشن پہلے سے ہی متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے تعینات ہیں، پاک فوج مشکل کی ہر گھڑی میں خیبر پختونخوا کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں سیلاب پاک فوج نے کے لیے ایک دن

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن