حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا اور نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔
خزانہ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت نے اوگرا اور متعلقہ وزارتوں کی تجاویز کی روشنی میں اگلے 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کرلیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اگست سے اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 84 پیسے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے، جس کے نئی قیمت فی لیٹر 272 روپے 99 پیسے ہوگئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اس سے قبل 285 روپے 83 پیسے فی لیٹر تھی۔
حکومت نے پیڑول کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا اور فی لیٹر قیمت 264 روپے 61 پیسے برقرار رکھی ہے۔
وفاقی حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت فی لیٹر 7 روپے 19 پیسے کم کرکے 178 روپے 27 پیسے مقرر کی ہے، اس سے قبل 185 روپے 46 پیسے تھی۔
لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں بھی 8 روپے 20 پیسے کمی کردی گئی ہے اور 170 روپے 36 پیسے کے مقابلے میں فی لیٹر نئی قیمت 162 روپے 37 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی حکومت نے کی قیمت فی لیٹر
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔