نماز ظہرین کے بعد عزادارانِ سید الشہداءؑ نے رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر ان سے تجدید عہد کرتے ہوئے شیطانِ وقت کیخلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا اور امریکا، اسرائیل و ہندوستان کے پرچم نذر آتش کیے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں چہلم شہدائے کربلا کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسينيہ ايرانياں کھارادر پر اختتام پذير ہوگیا، اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کا چہلم ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ پاک محرم ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مرکزی مجلس عزا نشتر پارک میں منعقد ہوئی، جس میں مصائب شہدائے کربلا علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے بیان کئے۔ بعد ازاں بوتراب اسکاؤٹس کی قیادت میں مرکزی جلوس عزا برآمد ہوا، جو مقررہ راستوں پر جاری رہا۔ مرکزی جلوس عزا میں علم، تابوت، شبیہ ذوالجناح کی زیارات برآمد کی گئیں، ماتمی انجمنوں نے نوحہ خوانی و سینہ زنی کی۔ مرکزی جلوس میں خواتین، بچوں، بوڑھوں سمیت لاکھوں کی تعداد میں عزاداران امام مظلومؑ شریک ہوئے۔

دوران مرکزی جلوس باجماعت نماز ظہرین امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام دو بجے مسجد و امام بارگاہ علی رضاؑ کے سامنے ایم اے جناح روڈ پر مولانا سید ناظر عباس تقوی کی زیر اقتدا ادا کی گئی۔ نماز ظہرین کے بعد عزادارانِ سید الشہداءؑ نے رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر ان سے تجدید عہد کرتے ہوئے شیطانِ وقت کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا اور امریکا، اسرائیل اور ہندوستان کے پرچم نذر آتش کیے۔ مرکزی جلوس کے دوران جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہل خانہ کی سربراہی میں عزادارانِ سید الشہداءؑ نے شیعہ لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں نوحوں اور مرثیوں کی صداؤں میں مرکزی جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ جلوس کی گزرگاہ پر عزاداروں کیلئے پانی، دودھ اور شربت کی سبیلیں لگائی گئیں، جبکہ نذر و نیاز کی تقسیم بھی کی گئی۔ اس موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے، جبکہ ہيلی کاپٹر کے ذريعے جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید الشہداء مرکزی جلوس

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • شلمچہ بارڈر پر امریکی حملوں کے باعث زائرینِ اربعین حسینیؑ کی شہادت کیخلاف کراچی میں احتجاج
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے