وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر پر جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر کے منصوبے پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چینی کمپنی HONGKONG-AOHUA کی جانب سے پیش کردہ ہسپتال کے کنسیپٹ ڈیزائن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ ڈیزائن کمپنی نے پاکستان کو ایک تحفے کے طور پر بغیر کسی معاوضے کے تیار کیا ہے۔ ہانگ کانگ-آوہوا کمپنی گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائدہسپتالوں کے ڈیزائن بنا چکی ہے، اور اس کا پاکستان کے لیے رضاکارانہ طور پر عالمی معیار کا ڈیزائن تیار کرنا پاک چین دوستی اور عوامی روابط کی گہرائی کا عکاس ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس اقدام پر چینی کمپنی کی قیادت اورٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ یہ تحفہ نہ صرف حکومت اور پاکستانی عوام کے لیے اہمیت رکھتا ہے، بلکہ اس ہسپتال سے مستقبل میں شفایاب ہونے والے مریض بھی اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کو عالمی معیار کے مطابق ایک ٹرشری کیئر ہسپتال بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال کے پیش کردہ ڈیزائن کا مکمل تکنیکی جائزہ لیا جائے اور منصوبے میں ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش کردہ کنسیپٹ ڈیزائن میں ممکنہ وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی شامل ہے، جو کہ ایک مثبت اور دور اندیش پہلو ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبے میں ماحول کے تحفظ، پانی کی بچت اور وسائل کے مؤثر استعمال کو مدنظر رکھا جائے۔ شمسی توانائی، قدرتی روشنی کے استعمال، پانی کی ری سائکلنگ اور سرسبز ماحول کے قیام پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے جناح میڈیکل کمپلیکس کو اسلام آباد کے دیگر ہسپتالوں سے ڈیجیٹل طور پر منسلک کرنے کی ہدایت دی، اور کہا کہ اس منصوبے کی تعمیر تمام تر مراحل سمیت مقررہ مدت میں مکمل کی جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ، وزیرِاعظم کے کوارڈینیٹر مشرف زیدی، چیئرمین پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر، چینی کمپنی کے سی ای او ڈاکٹر لیو-ژانپئی اور وفد سمیت متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جناح میڈیکل کمپلیکس
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔