مالا کنڈ، جے یو آئی راہنما مفتی کفایت اللہ و اہلیہ فائرنگ سے زخمی، بیٹی بیٹا جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
لیویز ذرائع نے کہا کہ فائرنگ سے جے یو آئی کے ضلعی امیر کا بیٹا عصمت اللہ اور بیٹی جاں بحق ہوئے جبکہ جے یو آئی کے ضلعی امیر اور ان کی اہلیہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا ایک بیٹا اور بیٹی شدید زخمی بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مالاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ میں جے یو آئی کے ضلعی امیر مفتی کفایت اللہ اور ان کی اہلیہ فائرنگ سے زخمی ہو گئے جبکہ ان کی بیٹی اور بیٹا جاں بحق ہو گئے۔ لیویز ذرائع نے بتایا کہ مفتی کفایت اللہ کے گھر میں فائرنگ ان کے بیٹے نے کی اور واردات کے بعد فرار ہو گیا، نعشیں اور زخمی ڈی ایچ کیو ہسپتال بٹ خیلہ منتقل کر دیے گئے۔ لیویز ذرائع نے کہا کہ فائرنگ سے مفتی کفایت اللہ کا بیٹا عصمت اللہ اور بیٹی جاں بحق ہوئے جبکہ مفتی کفایت اللہ اور ان کی اہلیہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، ان کا ایک بیٹا اور بیٹی شدید زخمی بھی ہیں۔
ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ مفتی کفایت اللہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس اور لیویز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے، تاہم تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل نومبر 2019 میں بھی مفتی کفایت اللہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مفتی کفایت اللہ فائرنگ سے جے یو ا ئی اللہ اور اور بیٹی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔