خیبرپختونخواہ حکومت کے تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست 2025ء ) حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران ریسکیو کاموں میں خیبرپختونخواہ حکومت کے تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع مہمند میں حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کی تحقیقات میں اہم پیشرفت یہ سامنے آئی ہے کہ پولیس کو خیبرپختونخواہ حکومت کے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل چکا ہے، اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس جائے حادثہ سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر پڑا تھا جسے تلاش کرلیا گیا، پولیس نے بلیک باکس متعلقہ حکام کے حوالے کردیا، تحقیقاتی ٹیم نے ہیلی کاپٹر حادثے کے جائے وقوعہ کا 2 مرتبہ معائنہ کیا اور آج زمینی معائنے کیا گیا جس کا مقصد شواہد اکھٹے کرنا تھا اسی دوران ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس ملا۔
(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ دو روز قبل باجوڑ کے لیے امدادی سامان لے جانے والا خیبرپختونخواہ حکومت کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث حادثے کا شکار ہوا، حادثے میں 2 پائلٹس سمیت عملے کے 5 اہلکار شہید ہوگئے تھے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا جب کہ خیبرپختونخواہ حکومت کے ہیلی کاپٹرکریش ہونے کی ابتدائی رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ رپورٹ سے معلوم ہوا تھا کہ ہیلی کاپٹر 10 بج کر 30 منٹ پر باجوڑ کے لیے روانہ ہوا اور 12 بجے کے قریب ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہوا، 4 بجے ہیلی کاپٹر کو ٹریس کیا گیا جو مہمند میں کریش ہوا جس جگہ ہیلی کاپٹرکریش ہوا وہ تقریباً 8 ہزار میٹر بلندی پر ہے، جائے وقوعہ کے آس پاس کوئی آبادی نہیں، حادثہ خراب موسم اور دھند کے باعث پیش آیا کیوں کہ حادثہ جس جگہ پر ہوا وہاں بارش نہیں ہورہی تھی، وہاں اونچا پہاڑبادلوں اور دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خیبرپختونخواہ حکومت کے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔