گلگت: کھرمنگ میں ماں بیٹی سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللّٰہ فراق کا کہنا ہے کہ غذر کا دائین گاؤں سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے، پانی و بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے، ضلع کھرمنگ میں ماں بیٹی سیلابی ریلوں میں بہہ گئی، ان کی تلاش جاری ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ دیامر بونر نالہ میں سیلابی ریلوں میں بہنے والے بہن بھائی کی تلاش جاری ہے، دیامر بونر کا علاقہ دیامروی میں لینڈ سلائیڈنگ سے 8 رضاکار زخمی ہو گئے، سیلاب سے بہت تباہی ہوئی ہے، متاثرین کی بحالی پر وقت لگے گا، صاف پانی، بجلی اور آبپاشی چینلز کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
سیلابی ریلا راستے میں آئی ہر رکاوٹ بہا لے گیا، کنارے پر ایک مکان بھی بہہ گیا، سیلاب سے زرعی زمین، فصلوں اور مکانوں کو نقصان پہنچا۔
فیض اللّٰہ فراق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے، ضلع غذر میں کہیں ریسکیو، کہیں سرچ اور کہیں ریلیف آپریشن جاری ہے، نلتر ایکسپریس کا ایک حصہ بہنے کے بعد پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق شاہراہِ بلتستان باغیچہ اور استک کے مقام پر بحال کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، شام تک شاہراہِ بلتستان ٹریفک کے لیے بحال کر دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ محکمۂ مالیات نے متاثرین کی بحالی کے لیے 97 کروڑ سے زائد کی رقم جاری کی ہے، 50 کروڑ روپے کی لاگت کے بجلی اور آبپاشی کے منصوبوں پر ہنگامی کام جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیلاب سے کی بحالی جاری ہے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :