کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے کھانے میں استعمال ہونے والے آلو اور ٹماٹر اصل میں ایک ہی ’خاندان‘ کے رکن ہیں؟ جی ہاں ایک حیران کن سائنسی تحقیق نے حال ہی میں اس قدیمی رشتے پر سے پردہ اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آلو کی پیداوار: پاکستان 10 بڑے ممالک میں شامل ہوگیا

ڈی ڈبلیو میں شائع ہونے والی سحر بلوچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تقریباً 9 ہزار سال پہلے جنوبی امریکا میں جنگلی ٹماٹر اور آلو نما پودوں کے درمیان ایک فطری ملاپ ہوا تھا جس کے نتیجے میں آج ہمارا پسندیدہ آلو وجود میں آیا۔

ایک معتبر سائنسی جریدے سیل میں شائع اس تحقیق کے شریک مصنف اور یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسر لارین ریزبرگ کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نباتاتی ارتقا کی ایک اہم جھلک ہے جس سے پودوں کی قدیمی شجرہ نسبت اور ان کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

پروفیسر لارین نے کہا کہ زیادہ تر لوگ سمجھتے تھے کہ پودوں کی نئی اقسام بے ترتیب جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بنتی ہیں لیکن اس تحقیق نے بتا دیا کہ اصل میں کچھ اور بھی عوامل اس تخلیق میں شامل ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پودے بھی جانداروں سے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں، حیرت انگیز تحقیق

آلو، جو دنیا کی سب سے مقبول سبزیوں میں شمار ہوتا ہے، اپنے جینیاتی مواد میں جنوبی امریکا کے ملک چلی کے جنگلی آلو سے ملتا جلتا ہے، جسے ’ایٹوبروسم‘ کہا جاتا ہے۔

آلو اور ٹماٹر میں حیران کن مشابہت

اس راز کو کھولنے کے لیے سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے 450 مختلف آلوؤں اور 56 جنگلی اقسام کا جینیاتی تجزیہ کیا۔ چین کے شینزینگ ایگریکلچرل جینومکس انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ژیانگ ژینگ نے بتایا کہ جنگلی آلوؤں کا سیمپل جمع کرنا بہت مشکل کام تھا مگر اس کوشش نے ایک اہم انکشاف کیا۔

تحقیق سے پتا چلا کہ جدید آلو کے جینیاتی وراثت میں تقریباﹰ 60 فیصد حصہ ایٹوبروسم اور 40 فیصد حصہ ٹماٹر کی جین سے ملتا ہے جس کا مطلب ہے کہ آلو اور ٹماٹر واقعی ایک ہی خاندان کے ہیں۔

برطانیہ کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی ماہر نباتات سانڈرا نیپ نے کہا، یہ ایک غیر متوقع انکشاف ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کچھ دلچسپ ہو رہا ہے۔

نیا آلو، نیا امکان

چینی سائنسدان پروفیسر سانوینگ ہوانگ کی ٹیم اس راز کو اور گہرائی میں لے جا رہی ہے تاکہ ٹماٹر کے جینز کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئی قسم کا آلو بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: کیلیفورنیا: ٹماٹروں سے لدا ٹرک الٹنے سے ہائی وے سرخ پوش

یہ تحقیق مستقبل میں زرعی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے جہاں نئی اقسام کے آلو مزید غذائیت بخش، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مضبوط اور کاشتکاری کے لیے آسان ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آلو آلو پر تحقیق آلو پر ریسرچ آلو ٹماٹر کی رشتہ داری ٹماٹر سائنسی تحقیق.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا لو ا لو پر تحقیق ا لو پر ریسرچ ا لو ٹماٹر کی رشتہ داری ٹماٹر لو اور ٹماٹر

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار