گزشتہ دو روز کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 337 افراد جاں بحق اور 178 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 263 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ پی ڈی ایم اے نے جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 337 افراد جاں بحق اور 178 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 263 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 159 گھر وں کو نقصان پہنچا۔ جس میں 97 گھروں کو جزوی اور 62 گھر مکمل منہدم ہوئے۔ سیلاب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر 208 افراد جابحق ہوئے جبکہ متعدد لاپتہ ہیں۔ یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر متاثرہ اضلاع کے لیے فوری امدادی فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں اور تمام اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر بند شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جب کہ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

پی ڈی ایم اے کی امدادی ٹیمیں، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اب تک 3567 افراد کو بچایا جا چکا ہے جب کہ 3817 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں 545 اہل کار اور 90 گاڑیاں و کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔ دوسری جانب ریسکیو 1122 کے مطابق بونیر کی 3 تحصیلوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں ملبے تلے دبے افراد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے رات بھر امدادی کام جاری رکھا اور متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بچے شامل ہیں پی ڈی ایم اے خواتین اور کے مطابق

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے