خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کا 10 فیصد مسلح گروہوں کو ادا کیا جارہا ہے، فضل الرحمان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 18th, August 2025 GMT
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈ کا 10 فیصد حصہ غیر ریاستی مسلح گروں کو دیا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ عوامی نیشنل پارٹی کی اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ملک کا سیاسی اور پارلیمانی نظام مسلسل سوالیہ نشان بن گیا ہے، موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے، ہم اختلاف کر رہے ہیں، پر امن مارچ کر رہے ہیں یہی چیزیں بغاوت تک پہنچا دیتی ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں تمام جماعتوں کے نمائندے موجود ہیں، ایسی مجالس کا انعقاد خوش آئند ہے، ریاست کی پہلی ترجیح انسانی حقوق کا تحفظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے پی ہو، بلوچستان ہو یا سندھ ہو، تینوں صوبوں میں دن اور رات میں عام آدمی محفوظ نہیں، قبائلی علاقہ جات مسلح گروہوں کی گرفت میں ہیں، کاروباری لوگ کاروبار نہیں کر سکتے، بھتے دینے پڑتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سرکاری فنڈز کا دس فیصد ان مسلح گروہوں کو ادا کیا جاتا ہے، ہمارے قبائلی علاقوں کے معدنی وسائل اور ذخائر جو عوام کے ہیں، ملک میں قوانین موجود ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دنیا میں سرمایہ کاری ہوتی ہے کمپنیاں آتی ہیں، مقامی لوگوں کا اپنا شیئر ہوتا ہے ریاست کا اپنا شیئر ہوتا ہے، اس ملک میں تمام کارروائیاں اتھارٹی قائم کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسان فارمولوں کے تحت دنیا کو انگیج کرسکتے ہیں، آج وسائل ملک کے مستقبل کو روشن کرنے کے لئے سامنے آچکے ہیں، مگر وہاں پر اتھارٹی جمائی جاتی ہے، عوام، پارلیمنٹ کا کوئی اختیار نہیں، ہم نے فاٹا کا انضمام کیا، آٹھ نو سال گزر جانے کے بعد ریاست کمیٹی بناتی ہے کہ قبائل کا جرگہ سسٹم دوبارہ بحال ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے جرگہ قومی ہوتا تھا اور امن کی ذمہ داری اقوام پر ہوتی تھی جو حکومت کو منتقل ہوگئی، آج نو سال بعد جرگہ سسٹم کو بحال کرنے ضرورت کیوں پڑھ گئی؟
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر جا رہا ہے کہ انضمام فاٹا کے علاقوں تک رسائی کے لئے کیا گیا، اب امن و امان کی ذمہ داری قبائل پر ڈالی جا رہی ہے، یہ فیصلہ تاریخ کرے کہ کس کی رائے ٹھیک نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہاں ہیں وہ 100 ارب روپے جو ملنے تھے؟ کہاں ہیں وہ خواب جو دکھائے گئے؟ مائن اور منرل ایکٹ کے حوالے سے قانون بنائے جاتے ہیں، یہ قانون سازی آئین کے متصادم ہے، اٹھارویں ترمیم میں دیے گئے اختیارات قانون سازی کے ذریعے واپس لیے جا رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ متنازع چیزوں پر بحث کرنے کی بجائے متفقہ چیروں کو سامنے لایا جائے، بدقسمتی سے ملک کا سیاسی اور پارلیمانی نظام مسلسل سوالیہ نشان بن گیا، موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ آج ہم اختلاف کر رہے ہیں پر امن مارچ کر رہے ہیں یہی چیزیں بغاوت تک پہنچا دیتی ہیں، نظام کو سیدھا اور ٹھیک کیا جائے، ہم اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان فضل الرحمان مولانا فضل کر رہے ہیں نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔