مصر میں مشہور خاتون ٹک ٹاکر اسٹار’یاسمین‘ لڑکا نکلا
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
مصر( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اگست 2025ء ) مصرمیں لڑکی کا روپ دھار کر یاسمین کے نام سے ٹک ٹاک چلانے والی خاتون لڑکا نکلا۔ اصلیت سامنے آنے پرفالورز بھی چکرا کر رہ گئے، پولیس کے مطابق نے ان شکایتوں پر انہوں نے تحقیقات کے لیے ٹک ٹاکر یاسمین کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے بلایا اور تفتیش کی۔ جس کے دوران انکشاف ہوا کہ لڑکی کا روپ دھار کر یاسمین کے نام سے ٹک ٹاک چلانے والی خاتون دراصل ایک لڑکا 18 سالہ عبد الرحمان ہے۔
نوجوان طالبعلم نے تسلیم کیا کہ اس نے یہ اکاؤنٹ صرف فالوورز بڑھانے اور پیسے کمانے کے لیے بنایا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب خاتون ٹک ٹاکر کی ڈانس ویڈیوز پر تھانے میں شکایتوں کے انبار لگ گئے تھے۔ عدالت نے ملزم کو ابتدائی طور پر چار روزہ ریمانڈ پر بھیجا تاہم بعد میں اسے 5 ہزار مصری پاؤنڈ (تقریباً 105 ڈالر) کے عوض ضمانت پر رہا کردیا گیا۔(جاری ہے)
نوجوان عبدالرحمان ایک گاؤں میں اپنی مطلقہ ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق وہ ایک عام اور خاموش طبع لڑکا تھا اور سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کے انسٹیٹیوٹ میں پڑھ رہا تھا۔ ایک پڑوسی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم صدمے میں ہیں۔ جسے ایک عام نوجوان لڑکے کے طور پر دیکھا وہ لڑکی بن کر دنیا کو بیوقوف بنا رہا تھا۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق عبدالرحمان کے خلاف خاتون کا روپ دھارنے اور غیر اخلاقی مواد شائع کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب مصر میں حکام سوشل میڈیا پر "غیر اخلاقی مواد" کے خلاف مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔