زیلنسکی نے روسی صدر سے براہِ راست مذاکرات کی اپیل کردی، یومِ آزادی پر قیدیوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ براہِ راست ملاقات ہی امن قائم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
زیلنسکی نے یہ بیان یوکرین کے یومِ آزادی کی تقریب کے موقع پر دیا جس میں امریکی اور مغربی نمائندے بھی شریک تھے۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ وہ "روس کو امن کی طرف دھکیلنے" کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی ایلچی کیتھ کیلوگ کو ’’آرڈر آف میرٹ‘‘ ایوارڈ بھی دیا۔
ادھر جنگ کے چوتھے سال میں داخل ہونے کے باوجود لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ یوکرین نے روس میں ڈرون حملے کیے جن میں ایک ڈرون کورسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب گرایا گیا۔ روسی حکام کے مطابق یوکرینی ڈرونز سینٹ پیٹرزبرگ سمیت کئی علاقوں میں بھی مار گرائے گئے۔
دونوں ممالک نے اتوار کے روز 146، 146 قیدیوں اور شہریوں کو رہا کیا، جو کہ اس تنازع کے دوران باہمی تعاون کا ایک نادر موقع ہے۔
روسی فوج نے مشرقی ڈونیٹسک کے دو دیہات پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم یوکرینی کمانڈر اولیکساندر سیرسکی نے کہا کہ تین دیہات یوکرین نے واپس حاصل کرلیے ہیں۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کیف کے دورے کے دوران کہا کہ یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کا فیصلہ روس نہیں کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔