پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، ہنڈریڈ انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر غیر یقینی اور دباؤ کا ماحول رہا، جب کہ فیوچر کانٹریکٹس کے رول اوور کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔
صبح 11 بج کر 40 منٹ پر 100 انڈیکس 148,864.19 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو کہ 628.86 پوائنٹس یا 0.42 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -460.
— Investify Pakistan (@investifypk) August 25, 2025
ماہرین کے مطابق یہ کمی ’پرافٹ ٹیکنگ‘ اور رول اوور ویک کے آغاز کی وجہ سے سامنے آئی ہے، جس ضمن میں تقریباً 77 ارب روپے مالیت کی بقیہ فیوچر پوزیشنز کو رول اوور کرنا ہے۔
رول اوور ویک دراصل وہ دورانیہ ہوتا ہے جب فیوچر ٹریڈنگ میں موجودہ معاہدے ختم کر کے اگلے مہینے کے نئے معاہدے کیے جاتے ہیں تاکہ سرمایہ کار اپنی پوزیشنز برقرار رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ رقم، 100 انڈیکس پہلی بار 150,000 کی سطح عبور کرگیا
کاروباری سیشن کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز میں نمایاں سیلنگ پریشر دیکھا گیا، بڑی کمپنیوں جیسے حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور وافی کے شیئرز بھی مندی کا شکار رہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکوٹی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی، جب مضبوط کارپوریٹ منافع اور سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کے باعث انڈیکس نے 151,262 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھوا اور ہفتے کے اختتام پر 149,493 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیادوں پر 2 فیصد اضافہ تھا۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 1 لاکھ 47 ہزار کی حد دوبارہ بحال
بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پیر کے روز بڑھ گئیں کیونکہ سرمایہ کار امریکی سود کی شرح میں کمی کے امکانات اور امریکی کمپنی اینویڈیا کے نتائج کے منتظر ہیں، جاپان کا نکی 0.6 فیصد، جنوبی کوریا کا انڈیکس 0.7 فیصد اور آسٹریلیا کا انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس جاپان کے علاوہ 1.1 فیصد بڑھا، جس کی قیادت چینی بلیو چپس نے کی، جو اس ماہ تقریباً 9 فیصد اوپر جا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز آئل مارکیٹنگ کمپنیز آٹو موبائل اسمبلرز او جی ڈی سی ایس ایس جی سی ایس این جی پی ایل) ایکوٹی مارکیٹ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل شیئرز کارپوریٹ منافع کمرشل بینکس کے ایس ای ماری پیٹرولیم مندی وافی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آئل مارکیٹنگ کمپنیز آٹو موبائل اسمبلرز او جی ڈی سی ایس ایس جی سی ایس این جی پی ایل پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل کارپوریٹ منافع کے ایس ای ماری پیٹرولیم وافی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔