انٹیل کا ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تاریخی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
انٹیل کارپوریشن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت امریکی حکومت انٹیل کے عام شیئرز میں 8.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں حکومت کو کمپنی میں تقریباً 9.9 فیصد حصص ملیں گے۔
سرمایہ کاری کی تفصیلاتحکومت انٹیل کے 433.3 ملین نئے عام شیئرز 20.
یہ سرمایہ کاری ان رقوم سے کی جائے گی جو پہلے سے انٹیل کو دی گئی گرانٹس میں شامل تھیں مگر ابھی تک ادا نہیں ہوئیں:
5.7 ارب ڈالر چیپس اینڈ سائنس ایکٹ کے تحت بقایا گرانٹس۔
3.2 ارب ڈالر ’سکیور انکلیو پروگرام‘ کے تحت دی گئی رقم۔
اس سے پہلے انٹیل کو 2.2 ارب ڈالر کے چیپس گرانٹس مل چکے ہیں۔ اس طرح کل حکومتی تعاون کی مالیت 11.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
شرائط اور حقوقحکومت کا یہ حصہ داری مکمل طور پر غیر فعال (Passive Ownership) ہوگی۔
حکومت کو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نمائندگی یا انتظامی کنٹرول نہیں ملے گا اور نہ ہی خصوصی معلومات تک رسائی ہوگی۔
حکومت زیادہ تر معاملات میں کمپنی کے بورڈ کے فیصلے کے مطابق ووٹ دینے پر رضا مند ہے، صرف چند محدود استثنیٰ کے ساتھ۔
اس کے علاوہ حکومت کو ایک 5 سالہ وارنٹ دیا گیا ہے جس کے تحت وہ 20 ڈالر فی شیئر کے حساب سے مزید 5 فیصد حصص خرید سکتی ہے، لیکن یہ اختیار صرف اسی صورت میں استعمال ہو سکے گا اگر انٹیل اپنی فاؤنڈری بزنس میں کم از کم 51 فیصد ملکیت برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔
ردِ عمل اور تجزیہمعاہدے کے اعلان کے بعد انٹیل کے شیئرز میں تیزی آئی اور اسٹاک کی قیمت میں 5.5 تا 7 فیصد اضافہ ہوا، جو تقریباً 24.80 ڈالر فی شیئر پر بند ہوا۔
انٹیل کے سی ای او لپ-بو تان نے کہا:
’انٹیل واحد امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنی ہے جو لیڈنگ ایج لاجک تحقیق و تیاری کرتی ہے۔ ہم پرعزم ہیں کہ دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی امریکہ میں تیار ہو اور امریکی قیادت کو آگے بڑھائے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ براہِ راست شراکت داری ایک غیر معمولی قدم ہے۔ عام حالات میں ایسی حکومتی مداخلت صرف جنگ یا بڑے معاشی بحران میں ہی دیکھی جاتی ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ اقدام امریکی آزاد منڈی کے روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہے اور نجی کاروباروں کے فیصلوں کو سیاست سے جکڑ سکتا ہے، جبکہ حمایتی اسے قومی سلامتی اور ٹیکنالوجی میں امریکی برتری کو یقینی بنانے کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا انٹیل ٹرمپ انتظامیہ ٹیکنالوجی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا انٹیل ٹرمپ انتظامیہ ٹیکنالوجی سرمایہ کاری انٹیل کے ارب ڈالر کے تحت
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔