یکم تا 12 ربیع الاول عشرہ رحمت اللعالمینؐ منایا جائے گا، وزیر مذہبی امور
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ وزارت مذہبی امور نے 1447ء ہجری کو 1500 ویں ولادت و با سعادت کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے، یکم تا 12 ربیع الاول عشرہ رحمت اللعالمین منایا جائے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اس کا سب سے اہم حصہ 50 ویں سیرت النبیﷺ کانفرنس کا انعقاد ہوگا، اس کانفرنس میں اہم سیاسی و سرکاری و بین الاقوامی شخصیات شرکت کریں گی، سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت، ریاست کی ذمہ داریاں سیرت النبیﷺ کی روشنی میں ہوگا، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان و کشمیر کو بھی سیرت النبیﷺ کانفرنسز کے انعقاد کی ہدایات کی گئی ہیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ 11 ویں ربیع الاول کی شب خصوصی محفل نعت کا انعقاد ہوگا، وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر چاروں صوبوں بشمول کشمیر و گلگت بلتستان میں تقاریب منعقد ہوں گی، ان تقاریب سے امن، محبت اور رواداری کا پیغام دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان تقاریب سے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سمیت دیگر امور پر رہنمائی فراہم کی جائے گی، قوم سے اپیل ہے کہ وہ ان تقاریب میں بھرپور شرکت کرے، غریب، نادار افراد خصوصاً سیلاب زدگان کی مدد کیلئے مدد و تعاون کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :